Showing posts with label ذاکر رحمان. Show all posts
Showing posts with label ذاکر رحمان. Show all posts

Sunday, 24 April 2022

نظم کہنے کے لیے ضروری نہیں

 نظم کہنے کے لیے نیلی آنکھیں ضروری نہیں

آنکھیں بھی ضروری نہیں

نظم کہنے کے لیے تر و تازہ ہونٹ ضروری نہیں

ہونٹ بھی ضروری نہیں

نظم کہنے کے لیے نہفتہ بدن ضروری نہیں

بدن بھی ضروری نہیں

Monday, 28 March 2022

چھوٹ رہا ہے ہاتھ تمہارا اکھڑ رہے ہیں پاؤں

 جاتے سال کی آخری شام


چھوٹ رہا ہے 

ہاتھ تمہارا 

اکھڑ رہے ہیں پاؤں

لپٹ لپٹ کر روتی ہے

جب دھوپ سے گہری چھاؤں

Thursday, 10 March 2022

کون سونگھے جسم کی خوشبو

 کون سونگھے جسم کی خوشبو

کہ ذہنوں میں بہکتی خواہشوں کی مَیل ہے

یوں بھی تو اندھی ہوس اک بَیل ہے

کُھونٹیوں سے

باندھ کر رکھا گیا ہے جِنس کو

تہذیب کی

Friday, 7 January 2022

نہ یہ شام اتنی اداس ہے

 نہ یہ شام اتنی اُداس ہے

کہ میں زندگی کو اُجاڑ دوں

نہ یہ زخم اِتنے عمیق ہیں

کہ میں اپنی شکل بگاڑ دوں

یہ تو اب کھُلا مِرے شعر میں

تِرے نین نقش جو ثَبت تھے

Tuesday, 14 December 2021

محبت شاعروں کی میراث نہیں

 محبت شاعروں کی میراث نہیں

نظم کہنے کے لیے نیلی آنکھیں ضروری نہیں

آنکھیں بھی ضروری نہیں

نظم کہنے کے لیے تر و تازہ ہونٹ ضروری نہیں

ہونٹ بھی ضروری نہیں

نظم کہنے کے لیے نہفتہ بدن ضروری نہیں

Monday, 13 December 2021

کچھ نظمیں ہیں جو سینے میں رہ جاتی ہیں

 نظموں کا قبرستان


کچھ نظمیں ہیں

جو سینے میں رہ جاتی ہیں

گُھٹ گُھٹ کر مر جاتی ہیں

کچھ نظمیں ہیں

جو ہاتھوں کی ریکھاؤں میں رہتی ہیں

Wednesday, 25 December 2013

نہ سوال ہے نہ جواب ہے يہ عذاب ہے

نہ سوال ہے نہ جواب ہے، يہ عذاب ہے
يہ جو زندگی کی کتاب ہے، يہ عذاب ہے
يہ جو بے لگام ہے رخشِ وقت، يہ وہم ہے
يہ جو رات دن کا حساب ہے، يہ عذاب ہے
وہ جو کچی عمر کاجوگ تھا کوئی روگ تھا
يہ عنفوانِ شباب ہے، يہ عذاب ہے