نظم کہنے کے لیے نیلی آنکھیں ضروری نہیں
آنکھیں بھی ضروری نہیں
نظم کہنے کے لیے تر و تازہ ہونٹ ضروری نہیں
ہونٹ بھی ضروری نہیں
نظم کہنے کے لیے نہفتہ بدن ضروری نہیں
بدن بھی ضروری نہیں
نظم کہنے کے لیے نیلی آنکھیں ضروری نہیں
آنکھیں بھی ضروری نہیں
نظم کہنے کے لیے تر و تازہ ہونٹ ضروری نہیں
ہونٹ بھی ضروری نہیں
نظم کہنے کے لیے نہفتہ بدن ضروری نہیں
بدن بھی ضروری نہیں
جاتے سال کی آخری شام
چھوٹ رہا ہے
ہاتھ تمہارا
اکھڑ رہے ہیں پاؤں
لپٹ لپٹ کر روتی ہے
جب دھوپ سے گہری چھاؤں
کون سونگھے جسم کی خوشبو
کہ ذہنوں میں بہکتی خواہشوں کی مَیل ہے
یوں بھی تو اندھی ہوس اک بَیل ہے
کُھونٹیوں سے
باندھ کر رکھا گیا ہے جِنس کو
تہذیب کی
نہ یہ شام اتنی اُداس ہے
کہ میں زندگی کو اُجاڑ دوں
نہ یہ زخم اِتنے عمیق ہیں
کہ میں اپنی شکل بگاڑ دوں
یہ تو اب کھُلا مِرے شعر میں
تِرے نین نقش جو ثَبت تھے
محبت شاعروں کی میراث نہیں
نظم کہنے کے لیے نیلی آنکھیں ضروری نہیں
آنکھیں بھی ضروری نہیں
نظم کہنے کے لیے تر و تازہ ہونٹ ضروری نہیں
ہونٹ بھی ضروری نہیں
نظم کہنے کے لیے نہفتہ بدن ضروری نہیں
نظموں کا قبرستان
کچھ نظمیں ہیں
جو سینے میں رہ جاتی ہیں
گُھٹ گُھٹ کر مر جاتی ہیں
کچھ نظمیں ہیں
جو ہاتھوں کی ریکھاؤں میں رہتی ہیں