اگر اپنی چشمِ نم پر مجھے اختیار ہوتا
تو بھلا یہ رازِ الفت کبھی آشکار ہوتا
ہے تنک مزاج صیاد کچھ اپنا بس نہیں ہے
میں قفس کو لے کے اڑتا اگر اختیار ہوتا
یہ ذرا سی اک جھلک نے دل و جاں کو یوں جلایا
تری برقِ حسن سے پھر کوئی کیا دو چار ہوتا
اگر اپنی چشمِ نم پر مجھے اختیار ہوتا
تو بھلا یہ رازِ الفت کبھی آشکار ہوتا
ہے تنک مزاج صیاد کچھ اپنا بس نہیں ہے
میں قفس کو لے کے اڑتا اگر اختیار ہوتا
یہ ذرا سی اک جھلک نے دل و جاں کو یوں جلایا
تری برقِ حسن سے پھر کوئی کیا دو چار ہوتا
کس دل سے ترکِ لذتِ دنیا کرے کوئی
وہ خوابِ دلفریب کہ دیکھا کرے کوئی
کیا سہل ہے کہ ترکِ تماشہ کرے کوئی
دل سے نہ ہو تو آنکھ سے توبہ کرے کوئی
غنچے کے دل میں کچھ نہ تھا اک آہ کے سوا
پھر کیا شگفتگی کی تمنا کرے کوئی
دامن قاتل جو اڑ اڑ کر ہوا دینے لگے
کیا بتاؤں زخمِ دل کیا کیا دعا دینے لگے
وائے ناکامی کہاں سفاک نے روکا ہے ہاتھ
زخم ہائے شوق جب کچھ کچھ مزا دینے لگے
چارہ سازو مجھ سے رسوا جاں بلب بیمار کو
زہر دینا چاہئے تھا، تم دوا دینے لگے
وحشت تھی، ہم تھے، سایۂ دیوارِ یار تھا
یا یہ کہو، کہ سر پہ کوئی جن سوار تھا
بگڑا چمن میں کل تِرے وحشی کا جب مزاج
جھونکا نسیم کا بھی، اسے ناگوار تھا
لالے کا داغ دیکھ کے چتون بدل گئی
تیور سے صاف رازِ جنوں آشکار تھا
خون کے گھونٹ بلا نوش پیے جاتے ہیں
خیر ساقی کی مناتے ہیں، جیے جاتے ہیں
ایک تو درد ملا، اس پہ یہ شاہانہ مزاج
ہم غریبوں کو بھی کیا تحفے دئیے جاتے ہیں
آگ بجھ جائے، مگر پیاس بجھائے نہ بجھے
پیاس ہے یا کوئی ہوکا، کہ پیے جاتے ہیں