Showing posts with label یاس یگانہ. Show all posts
Showing posts with label یاس یگانہ. Show all posts

Wednesday, 2 December 2020

اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتا

 اگر اپنی چشمِ نم پر مجھے اختیار ہوتا

تو بھلا یہ رازِ الفت کبھی آشکار ہوتا

ہے تنک مزاج صیاد کچھ اپنا بس نہیں ہے

میں قفس کو لے کے اڑتا اگر اختیار ہوتا

یہ ذرا سی اک جھلک نے دل و جاں کو یوں جلایا

تری برقِ حسن سے پھر کوئی کیا دو چار ہوتا

Thursday, 15 October 2020

کس دل سے ترک لذت دنیا کرے کوئی

 کس دل سے ترکِ لذتِ دنیا کرے کوئی

وہ خوابِ دلفریب کہ دیکھا کرے کوئی

کیا سہل ہے کہ ترکِ تماشہ کرے کوئی

دل سے نہ ہو تو آنکھ سے توبہ کرے کوئی

غنچے کے دل میں کچھ نہ تھا اک آہ کے سوا

پھر کیا شگفتگی کی تمنا کرے کوئی

Saturday, 3 October 2020

دامن قاتل جو اڑ اڑ کر ہوا دینے لگے

 دامن قاتل جو اڑ اڑ کر ہوا دینے لگے

کیا بتاؤں زخمِ دل کیا کیا دعا دینے لگے

وائے ناکامی کہاں سفاک نے روکا ہے ہاتھ

زخم ہائے شوق جب کچھ کچھ مزا دینے لگے

چارہ سازو مجھ سے رسوا جاں بلب بیمار کو

زہر دینا چاہئے تھا، تم دوا دینے لگے

وحشت تھی ہم تھے سایۂ دیوارِ یار تھا

 وحشت تھی، ہم تھے، سایۂ دیوارِ یار تھا

یا یہ کہو، کہ سر پہ کوئی جن سوار تھا

بگڑا چمن میں کل تِرے وحشی کا جب مزاج

جھونکا نسیم کا بھی، اسے ناگوار تھا

لالے کا داغ دیکھ کے چتون بدل گئی

تیور سے صاف رازِ جنوں آشکار تھا

Thursday, 24 September 2020

خون کے گھونٹ بلا نوش پیے جاتے ہیں

 خون کے گھونٹ بلا نوش پیے جاتے ہیں

خیر ساقی کی مناتے ہیں، جیے جاتے ہیں

ایک تو درد ملا، اس پہ یہ شاہانہ مزاج

ہم غریبوں کو بھی کیا تحفے دئیے جاتے ہیں

آگ بجھ جائے، مگر پیاس بجھائے نہ بجھے

پیاس ہے یا کوئی ہوکا، کہ پیے جاتے ہیں

Friday, 31 July 2020

کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے

کارگاہِ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
اک طرف اجڑتی ہے، ایک سمت بستی ہے
بے دلوں کی ہستی کیا، جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
خواب ہے نہ بیداری، ہوش ہے نہ مستی ہے
کیمیائے دل کیا ہے؟ خاک ہے مگر کیسی؟
لیجیئے تو مہنگی ہے،۔ بیچئے تو سستی ہے

جب تک خلش درد خداداد رہے گی

جب تک خلشِ دردِ خداداد رہے گی
دنیا دلِ ناشاد کی، آباد رہے گی
دنیا کی ہوا راس نہ آئے گی کسی کو
ہر سر میں ہوائے عدم آباد رہے گی
چونکاۓ گی رہ رہ کے تو غفلت کا مزہ کیا
ساتھ اپنے اجل صورتِ ہمزاد رہے گی

دل کی ہوس وہی ہے مگر دل نہیں رہا

دل کی ہوس وہی ہے مگر دل نہیں رہا
محمل نشیں تو رہ گیا، محمل نہیں رہا
پہنچی نہ اڑ کے دامنِ عصمت پہ گَرد تک
اس خاک اڑانے کا کوئی حاصل نہیں رہا
رکھتے نہیں کسی سے تسلی کی چشم داشت
دل تک اب اعتبار کے قابل نہیں رہا

فکر انجام نہ آغاز کا کچھ ہوش رہا

فکرِ انجام نہ آغاز کا کچھ ہوش رہا
چار دن تک تو جوانی کا عجب جوش رہا
میں قفس میں بھی کسی روز نہ خاموش رہا
کشمکش میں بھی طبیعت کا وہی جوش رہا
نشۂ الفتِ ساقی کا عجب جوش رہا
ہولِ صحرائے قیامت بھی فراموش رہا

Monday, 5 December 2016

چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا

چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا
دلیلِ راہِ محبت ہے،۔ فیصلہ دل کا
خدا بچاۓ کہ نازک ہے ان میں ایک سے ایک
تنک مزاجوں سے ٹھہرا معاملہ دل کا
دکھا رہا ہے یہ دونوں جہاں کی کیفیت
کرے گا ساغرِ جم کیا مقابلہ دل کا

خداؤں کی خدائی ہو چکی بس

خداؤں کی خدائی ہو چکی بس
خدارا! بس، دہائی ہو چکی بس
ہوا میں اڑ گیا ایک ایک پتا
گلوں کی جگ ہنسائی ہو چکی بس
بھلا اب کیا جچوں اپنی نظر میں
نظر اپنی پرائی ہو چکی بس

Saturday, 18 June 2016

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہؔ، مگر بنا نہ گیا
پیامِ زیرِ لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا
اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی، رہا نہ گیا
گناہِ زندہ دلی کہیے یا دل آزاری
کسی پہ ہنس لیے اتنا کہ پھر ہنسا نہ گیا

انوکھی معرفت اندھوں کو حاصل ہوتی جاتی ہے

انوکھی معرفت اندھوں کو حاصل ہوتی جاتی ہے
حقیقت تھی جو کل تک آج باطل ہوتی جاتی ہے
بلندی کیا ہے، پستی کیا، ہوا کی کارفرمائی
سراسر موجِ دریا غرقِ ساحل ہوتی جاتی ہے
برائی میں بھلائی دیکھتا جاؤں مگر کب تک
یہ کیسی دولتِ عرفاں کہ نازل ہوتی جاتی ہے

کیا چل سکے گی باد مخالف مزار میں

کیا چل سکے گی بادِ مخالف مزار میں
جلتا ہے دل جلوں کا چراغ اس دیار میں
بجلی سی دوڑنے لگی پھر جسمِ زار میں
دیواریں پھاندنے لگے وحشی بہار میں
الٹی ہوا زمانے میں چلتی ہے آج کل
فرق آ گیا ہے گردشِ لیل و نہار میں

پیش خیمہ موت کا خواب گراں ہو جائے گا​

پیش خیمہ موت کا خوابِ گراں ہو جائے گا​
سیکڑوں فرسنگ آگے کارواں ہو جائے گا​
قالبِ خاکی کہاں تک ساتھ دے گا روح کا​
وقت آ جاۓ دو اک دن امتحاں ہو جائے گا​
چپکے چپکے ناصحا، پچھلے پہر رو لینے دے​
کچھ تو ظالم، چارۂ دردِ نہاں ہو جائے گا​

Thursday, 19 November 2015

مجھے دل کی خطا پر یاس شرمانا نہیں آتا

مجھے دل کی خطا پر یاس شرمانا نہیں آتا
پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا
برا ہو پائے سرکش کا کہ تھک جانا نہیں آتا
کبھی گمراہ ہو کر، راہ پر آنا نہیں آتا
ازل سے تیرا بندہ ہوں، تِرا ہر حکم آنکھوں کا
مگر، فرمانِ آزادی بجا لانا نہیں آتا

چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا

چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا
دلیلِ راہِ محبت ہے فیصلہ دل کا
ہوائے کوچۂ قاتل سے بس نہیں چلتا
کشاں کشاں لیے جاتا ہے ولولہ دل کا
گِلہ کسے ہے کہ قاتل نے نِیم جاں چھوڑا
تڑپ تڑپ کے نکالوں گا حوصلہ دل کا

Sunday, 23 November 2014

نگاہ لطف گر اے ساقئ میخانہ ہو جائے

نگاہِ لطف گر اے ساقئ مے خانہ ہو جائے
میں بن جاؤں شرابِ ناب، دل پیمانہ ہو جائے
دلِ مضطر پہ رحم آتا ہے اور ہوتی ہے وحشت بھی
کہیں رسوا نہ کر دے اور خود رسوا نہ ہو جائے
کروں ایجاد وہ رنگِ محبت، بزم دنیا میں
طریقِ راہ و رسمِ قیس، اک افسانہ ہو جائے

حال دونوں کا ہے غیر اب سامنا مشکل کا ہے

حال دونوں کا ہے غیر، اب سامنا مشکل کا ہے
دل کو میرا درد ہے اور مجھ کو رونا دل کا ہے
وحشت آبادِ جہاں میں دل بہلنے کا نہیں
رنگ کچھ پہلے ہی سے بے رنگ اس محفل کا ہے
واہ کیا کہنا ہے، اے کوتاہئ دستِ ہوس
دورِ آخر ہے مگر پاسِ ادب محفل کا ہے

Sunday, 16 November 2014

دل عجب جلوہ امید نظر آتا ہے مجھے

دل عجب جلوۂ امید نظر آتا ہے مجھے
شام سے یاسؔ سویرا نظر آتا ہے مجھے
جلوۂ دار و رسن اپنے نصیبوں میں کہاں
کون دنیا کی نگاہوں پہ چڑھاتا ہے مجھے
دل کو لہراتا ہے ہنگامۂ زندانِ بلا
شورِ ایذا طلبی وجد میں لاتا ہے مجھے