ہر دور میں ہر عہد میں تابندہ رہیں گے
ہم اہلِ محبت ہیں درخشندہ رہیں گے
جو نقشِ قدم اہل جنوں چھوڑ گئے ہیں
تم لاکھ مٹاؤ گے وہ پایندہ رہیں گے
تم نے وہ ستم ڈھائے ہیں اربابِ وفا پر
تاریخ کے اوراق بھی شرمندہ رہیں گے
ہر دور میں ہر عہد میں تابندہ رہیں گے
ہم اہلِ محبت ہیں درخشندہ رہیں گے
جو نقشِ قدم اہل جنوں چھوڑ گئے ہیں
تم لاکھ مٹاؤ گے وہ پایندہ رہیں گے
تم نے وہ ستم ڈھائے ہیں اربابِ وفا پر
تاریخ کے اوراق بھی شرمندہ رہیں گے
شامِ غم بیمار کے دل پر وہ بن آئی کہ بس
ہر طرف تاریکیاں اور ایسی تنہائی کہ بس
دل کی بربادی کا افسانہ ابھی چھیڑا ہی تھا
انجمن میں ہر طرف سے اک صدا آئی کہ بس
ان کی آنکھوں میں جو اشک آئے تو یوں آئے کہ اف
ان کے ہونٹوں پر ہنسی آئی تو یوں آئی کہ بس
ناکام میری کوششِ ضبطِ الم نہیں
یوں مطمئن ہوں جیسے مجھے کوئی غم نہیں
تاریکیوں میں آج بھی گم ہے وہ رہگزر
جس کو نصیب آپ کے نقشِ قدم نہیں
اس دور میں کہ جس میں ہے جنسِ وفا کا قحط
ہم سے وفا شعار جو باقی ہیں کم نہیں
دل والے ہیں ہم رسمِ وفا ہم سے ملی ہے
دنیا میں محبت کو بقا ہم سے ملی ہے
وہ خندہ بہ لب ذکرِ گلستاں پہ یہ بولے
غنچوں کو تبسم کی ادا ہم سے ملی ہے
ہم وہ ہیں کہ خود پھونک دئیے اپنے نشیمن
گلشن کے اندھیروں کو ضیا ہم سے ملی ہے
مے ملے یا نہ ملے رسم نبھا لی جائے
خالی بوتل ہے تو خالی ہی اُچھالی جائے
ہم بھی ہیں سینہ سِپر آپ بھی شمشیر بکف
بات تو جب ہے کوئی وار نہ خالی جائے
گھر کے آنگن میں تعصب کی یہ سڑتی ہوئی لاش
کتنے دن بیت گئے اب تو اُٹھا لی جائے
ساتھ لے کر اپنی بربادی کے افسانے گئے
آبروئے انجمن تھے جو وہ دیوانے گئے
ابتدا یہ تھی کہ دنیا بھر کی نظریں ہم پہ تھیں
انتہا یہ ہے کہ خود سے بھی نہ پہچانے گئے
تیری فیاضی سے کب انکار ہے ساقی، مگر
ایسے میکش بھی ہیں کچھ جن تک نہ پیمانے گئے