Showing posts with label راہی شہابی. Show all posts
Showing posts with label راہی شہابی. Show all posts

Monday, 18 October 2021

ہر دور میں ہر عہد میں تابندہ رہیں گے

ہر دور میں ہر عہد میں تابندہ رہیں گے

ہم اہلِ محبت ہیں درخشندہ رہیں گے

جو نقشِ قدم اہل جنوں چھوڑ گئے ہیں

تم لاکھ مٹاؤ گے وہ پایندہ رہیں گے

تم نے وہ ستم ڈھائے ہیں اربابِ وفا پر

تاریخ کے اوراق بھی شرمندہ رہیں گے

Friday, 15 October 2021

شام غم بیمار کے دل پر وہ بن آئی کہ بس

 شامِ غم بیمار کے دل پر وہ بن آئی کہ بس

ہر طرف تاریکیاں اور ایسی تنہائی کہ بس

دل کی بربادی کا افسانہ ابھی چھیڑا ہی تھا

انجمن میں ہر طرف سے اک صدا آئی کہ بس

ان کی آنکھوں میں جو اشک آئے تو یوں آئے کہ اف

ان کے ہونٹوں پر ہنسی آئی تو یوں آئی کہ بس

ناکام میری کوشش ضبط الم نہیں

ناکام میری کوششِ ضبطِ الم نہیں

یوں مطمئن ہوں جیسے مجھے کوئی غم نہیں

تاریکیوں میں آج بھی گم ہے وہ رہگزر

جس کو نصیب آپ کے نقشِ قدم نہیں

اس دور میں کہ جس میں ہے جنسِ وفا کا قحط

ہم سے وفا شعار جو باقی ہیں کم نہیں

Thursday, 14 October 2021

دل والے ہیں ہم رسم وفا ہم سے ملی ہے

 دل والے ہیں ہم رسمِ وفا ہم سے ملی ہے

دنیا میں محبت کو بقا ہم سے ملی ہے

وہ خندہ بہ لب ذکرِ گلستاں پہ یہ بولے

غنچوں کو تبسم کی ادا ہم سے ملی ہے

ہم وہ ہیں کہ خود پھونک دئیے اپنے نشیمن

گلشن کے اندھیروں کو ضیا ہم سے ملی ہے

Sunday, 23 May 2021

مے ملے یا نہ ملے رسم نبھا لی جائے

 مے ملے یا نہ ملے رسم نبھا لی جائے

خالی بوتل ہے تو خالی ہی اُچھالی جائے

ہم بھی ہیں سینہ سِپر آپ بھی شمشیر بکف

بات تو جب ہے کوئی وار نہ خالی جائے

گھر کے آنگن میں تعصب کی یہ سڑتی ہوئی لاش

کتنے دن بیت گئے اب تو اُٹھا لی جائے

Monday, 10 May 2021

ساتھ لے کر اپنی بربادی کے افسانے گئے

 ساتھ لے کر اپنی بربادی کے افسانے گئے

آبروئے انجمن تھے جو وہ دیوانے گئے

ابتدا یہ تھی کہ دنیا بھر کی نظریں ہم پہ تھیں

انتہا یہ ہے کہ خود سے بھی نہ پہچانے گئے

تیری فیاضی سے کب انکار ہے ساقی، مگر

ایسے میکش بھی ہیں کچھ جن تک نہ پیمانے گئے