وہی کلام کرے جس کو گفتگو آئے
سخن شناس ہے کوئی تو روبرو آئے
ہم اپنا دل لیے بیٹھے ہیں بام پر بے بس
وہ جن کے پاس تھے پیسے وہ چاند چھو آئے
دیے بجھائے ہواؤں نے توڑ دی مینا
برس چکی جو گھٹائیں تو ہم سبو آئے
وہی کلام کرے جس کو گفتگو آئے
سخن شناس ہے کوئی تو روبرو آئے
ہم اپنا دل لیے بیٹھے ہیں بام پر بے بس
وہ جن کے پاس تھے پیسے وہ چاند چھو آئے
دیے بجھائے ہواؤں نے توڑ دی مینا
برس چکی جو گھٹائیں تو ہم سبو آئے
مِری ماں سب سے پیاری ہے
مری ماں مسکراتی ہے تو اندر دل کے گوشوں میں بڑا ہی لطف آتا ہے
بڑا ماحول ہوتا ہے
فضا میں رقص دِکھتا ہے
حسیں ہر شخص دِکھتا ہے
میں اُن قدموں کو چُھوتا ہوں تو اِک آواز آتی ہے
درد بھی آپ کی عطا صاحب
آپ ہی کیجیے دوا صاحب
مجھ کو اقراء بسم رب سکھلا
میں نہیں حرف آشنا صاحب
تیری اس دل فریب دنیا میں
دل نہیں لگ رہا صاحب
ہر گھڑی کا حساب بس کیجے
یہ گناہ و ثواب بس کیجے
آپ لے جائیے سبھی خوشیاں
یہ حساب و کتاب بس کیجے
ہم اطاعت گزار لوگوں سے
آ چکا انقلاب، بس کیجے
ایک اُس کی ہی ذات ہے ساری
صرف اِتنی سی بات ہے ساری
میرے حصے میں آسماں لِکھ دے
تیری تو کائنات ہے ساری
زندگی زندگی ہے تیرے ساتھ
جُز تِرے بے ثبات ہے ساری