کب یہ مانگا تختِ شاہی دے، کوئی پوشاک دے
خاکساروں کو تُو بس اپنی گلی کی خاک دے
ہم زمیں زادے ہیں آخر، ہم کو یہ معلوم ہے
یُوں نہ دھوکا تُو ہمیں اے گردشِ افلاک دے
جو خُوشی پتھر کرے دل کو تو بہتر ہے یہی
اے خُدا! تُو اُس کے بدلے دیدۂ غمناک دے
ظُلم کی توفیق تو ظالم نے پائی ہے، مگر
بس ذرا مظلوم کو اک جُرأتِ بے باک دے
اپنے ماتھے پر سجاؤں، آنکھ کا سُرمہ کروں
اپنی خاکِ پا مجھے اے سیدِ لولاکﷺ دے
کر کے جُرأت کُوزہ گر سے آ کہیں اعزاز یہ
لا مِرے خوابوں کی مٹی اور اِدھر یہ چاک دے
خالد اعزاز
No comments:
Post a Comment