Friday, 9 October 2026

اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے

 اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے

کسی کے ہجر کی رنگت دکھائی دیتی ہے

اُسے صدا نہیں دیتا کہ لطفِ حاصل سے

جمالِ یار میں خفت دکھائی دیتی ہے

وہ اپنے عیب بھی آئینے پر ہی دھر آیا

کمال اس شخص میں جرأت دکھائی دیتی ہے

بنا تو لوں اسے دل کا مکیں، مگر مجھ کو

پسِ وصال بھی ہجرت دکھائی دیتی ہے

وہ مجھ سے ملنے مِرے گھر پہ آگیا تھا کل

سو میرے زخم میں جِدت دکھائی دیتی ہے

وہی چراغ جو اس تیرگی کا قاتل ہے

ہوا کو اس سے عداوت دکھائی دیتی ہے

یہ میرے سوزِ دروں کی ہی عطا ہے سالک

سخنوری میں جو برکت دکھائی دیتی ہے


محمد عمیر سالک

No comments:

Post a Comment