یہ کس مقام پہ آ کر ٹھہر گئی دنیا
ہمیں تو خواب سے محروم کر گئی دنیا
غریب پر تو ستم ڈھا رہی تھی رہ رہ کر
امیر سامنے آیا تو ڈر گئی دنیا
کہا تھا مجھ کو مصیبت میں کام آئے گی
ستم ہے قول سے اپنے مُکر گئی دنیا
وہی ہے اُس کا رویہ وہی ہے اُس کی روش
یہ کس نے کہہ دیا تم سے سُدھر گئی دنیا
حقیقی روپ جو پل بھر کو سامنے آیا
ہمارے دل سے نظر سے اتر گئی دنیا
سیده فلزا تسکین
No comments:
Post a Comment