Showing posts with label جیمنی سرشار. Show all posts
Showing posts with label جیمنی سرشار. Show all posts

Monday, 12 January 2026

محبت دل میں اس بیداد گر کی

 محبت دل میں اس بے داد گر کی

مصیبت ہو گئی ہے عمر بھر کی

کوئی ہو دیکھنے والا تو دیکھے

شبِ غم کس طرح ہم نے بسر کی

جبینِ شوق کے بے تاب سجدے

امانت ہیں تمہارے سنگِ در کی

Tuesday, 4 November 2025

نہیں کفر و ایماں کی راہوں میں فرق

 نہیں کفر و ایماں کی راہوں میں فرق

ہے انساں کی اپنی نگاہوں میں فرق

خرابِ محبت نہیں جانتے

خرابات میں خانقاہوں میں فرق

نگاہِ ستم گر نہیں دیکھتی

گنہگار میں بے گناہوں میں فرق

Saturday, 11 October 2025

اشک حسرت ہنسی کی بات نہیں

 اشک حسرت ہنسی کی بات نہیں

دردِ دل دل لگی کی بات نہیں

زلفِ برہم نے کر لیا ہے اسیر

اس میں کچھ برہمی کی بات نہیں

حُسن کی بے نیازیاں توبہ

عشق کی بے بسی کی بات نہیں

Friday, 10 October 2025

جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میں

 جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میں

انسان وہ کیا مر مٹنے کا احساس نہ ہو جس کے دل میں

ہنسنے کا طریقہ پیدا کر، رونے کا سلیقہ پیدا کر

ہنس پھول کی صورت گلشن میں رو شمع کی صورت محفل میں

قاتل کے دل کی کمزوری نے سارا کام بگاڑ دیا

ہم تشنۂ شوق شہادت تھے خنجر بھی تھا دستِ قاتل میں