محبت دل میں اس بے داد گر کی
مصیبت ہو گئی ہے عمر بھر کی
کوئی ہو دیکھنے والا تو دیکھے
شبِ غم کس طرح ہم نے بسر کی
جبینِ شوق کے بے تاب سجدے
امانت ہیں تمہارے سنگِ در کی
محبت دل میں اس بے داد گر کی
مصیبت ہو گئی ہے عمر بھر کی
کوئی ہو دیکھنے والا تو دیکھے
شبِ غم کس طرح ہم نے بسر کی
جبینِ شوق کے بے تاب سجدے
امانت ہیں تمہارے سنگِ در کی
نہیں کفر و ایماں کی راہوں میں فرق
ہے انساں کی اپنی نگاہوں میں فرق
خرابِ محبت نہیں جانتے
خرابات میں خانقاہوں میں فرق
نگاہِ ستم گر نہیں دیکھتی
گنہگار میں بے گناہوں میں فرق
اشک حسرت ہنسی کی بات نہیں
دردِ دل دل لگی کی بات نہیں
زلفِ برہم نے کر لیا ہے اسیر
اس میں کچھ برہمی کی بات نہیں
حُسن کی بے نیازیاں توبہ
عشق کی بے بسی کی بات نہیں
جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میں
انسان وہ کیا مر مٹنے کا احساس نہ ہو جس کے دل میں
ہنسنے کا طریقہ پیدا کر، رونے کا سلیقہ پیدا کر
ہنس پھول کی صورت گلشن میں رو شمع کی صورت محفل میں
قاتل کے دل کی کمزوری نے سارا کام بگاڑ دیا
ہم تشنۂ شوق شہادت تھے خنجر بھی تھا دستِ قاتل میں