Showing posts with label اصغر علی شاہ. Show all posts
Showing posts with label اصغر علی شاہ. Show all posts

Friday, 12 November 2021

جس وقت بھی کھینچا ہے نقشہ ترا لفظوں میں

 جس وقت بھی کھینچا ہے نقشہ تِرا لفظوں میں

اڑنے لگے اترا کر الفاظ ہواؤں میں

اک ساتھ مسیحا کے آب و گل نسبت سے

کیا جان تڑپتی ہے بے جان ہیولوں میں

دنیا میں محبت بھی کیا صوتِ خموشی ہے

جاں چھین لے زندوں کی، جاں ڈال دے مردوں میں

Friday, 22 October 2021

اب تو بن سانس بھی جینے کی سزا ملتی ہے

 اب تو بِن سانس بھی جینے کی سزا ملتی ہے

کیا یہ کچھ کم ہے کہ کھانے کو ہوا ملتی ہے

دوزخی جس کو قیامت میں بھی کم دیکھیں گے

شہرِ بے داد میں وہ حد بھی روا ملتی ہے

تن یہ زخمی کہ نگاہوں کو بھی تِل دھرنے کو

رونق آباد میں مشکل ہی سے جا ملتی ہے

غزالہ دیکھ اکھیاں یاد آوے

 غزالہ دیکھ اکھیاں یاد آوے

مجھے مغرور ایماں یاد آوے

کبھو دیکھے جو زلفاں کی سیاہی

شبِ تاریکِ ہجراں یاد آوے

جھلک دِکھلا دے رخساراں سوں لالی

توں یاقوتِ بدخشاں یاد آوے

Thursday, 21 October 2021

مرور وقت کی ہے داستان حرفوں میں

 مرورِ وقت کی ہے داستان حرفوں میں

ہزاروں دفن ہیں تاریخ دان حرفوں میں

برائے جاں نہیں دیووں کے پاس طوطے

کچھ آدمی بھی ہیں جن کی جان حرفوں میں

الٰہی! کون تھا وہ جیبھ کا جلا، جس نے

کتر کتر کے نکالی ہے زبان حرفوں میں

Wednesday, 20 October 2021

جانئے پھر کیوں ہمیں قرار نہیں ہے

 جانیۓ پھر کیوں ہمیں قرار نہیں ہے

جبکہ کسی کا بھی انتظار نہیں ہے

چہرۂ آفاق پر وہ چھائی اداسی

کون ہے جو آج سوگوار نہیں ہے

یا تو محبت ہے اک فریبِ گزشتہ

یا کہیں، امروز میں وہ پیار نہیں ہے