جس وقت بھی کھینچا ہے نقشہ تِرا لفظوں میں
اڑنے لگے اترا کر الفاظ ہواؤں میں
اک ساتھ مسیحا کے آب و گل نسبت سے
کیا جان تڑپتی ہے بے جان ہیولوں میں
دنیا میں محبت بھی کیا صوتِ خموشی ہے
جاں چھین لے زندوں کی، جاں ڈال دے مردوں میں
جس وقت بھی کھینچا ہے نقشہ تِرا لفظوں میں
اڑنے لگے اترا کر الفاظ ہواؤں میں
اک ساتھ مسیحا کے آب و گل نسبت سے
کیا جان تڑپتی ہے بے جان ہیولوں میں
دنیا میں محبت بھی کیا صوتِ خموشی ہے
جاں چھین لے زندوں کی، جاں ڈال دے مردوں میں
اب تو بِن سانس بھی جینے کی سزا ملتی ہے
کیا یہ کچھ کم ہے کہ کھانے کو ہوا ملتی ہے
دوزخی جس کو قیامت میں بھی کم دیکھیں گے
شہرِ بے داد میں وہ حد بھی روا ملتی ہے
تن یہ زخمی کہ نگاہوں کو بھی تِل دھرنے کو
رونق آباد میں مشکل ہی سے جا ملتی ہے
غزالہ دیکھ اکھیاں یاد آوے
مجھے مغرور ایماں یاد آوے
کبھو دیکھے جو زلفاں کی سیاہی
شبِ تاریکِ ہجراں یاد آوے
جھلک دِکھلا دے رخساراں سوں لالی
توں یاقوتِ بدخشاں یاد آوے
مرورِ وقت کی ہے داستان حرفوں میں
ہزاروں دفن ہیں تاریخ دان حرفوں میں
برائے جاں نہیں دیووں کے پاس طوطے
کچھ آدمی بھی ہیں جن کی جان حرفوں میں
الٰہی! کون تھا وہ جیبھ کا جلا، جس نے
کتر کتر کے نکالی ہے زبان حرفوں میں
جانیۓ پھر کیوں ہمیں قرار نہیں ہے
جبکہ کسی کا بھی انتظار نہیں ہے
چہرۂ آفاق پر وہ چھائی اداسی
کون ہے جو آج سوگوار نہیں ہے
یا تو محبت ہے اک فریبِ گزشتہ
یا کہیں، امروز میں وہ پیار نہیں ہے