اُس نے پوچھا
اِس دنیا میں
کتنے لوگ ہیں
جن کا ایک فریم میں آنا
یا پل بھر کا ساتھ
قیامت ڈھا سکتا ہے
اُس نے پوچھا
اِس دنیا میں
کتنے لوگ ہیں
جن کا ایک فریم میں آنا
یا پل بھر کا ساتھ
قیامت ڈھا سکتا ہے
یہ شب مجھ سے کنارہ کر رہی ہے
بڑا گھاٹے کا سودا کر رہی ہے
نہ پوچھو میری رُسوائی کا عالم
چلو، خلقت تماشا کر رہی ہے
ہجومِ شہرِ نا پُرساں میں ہم کو
محبت کیسے تنہا کر رہی ہے
شہر پناہ
اے ہم سخن
خاموش رہ، آہٹ نہ کر
یہ رات ہے
یا رات کا اک عکس ہے
ہے رات کا دستور یہ
مقصود یہ، منشور یہ
برکھا رُت
برستی برکھا
ہمارے اشکوں کی آخری یاد بن کے
ویران ریگزاروں
کہیں پہ مدفون شہر کی زیست کے مزاروں
کہیں عقوبت کدوں میں
نیا اک زخم ہم کھائے ہُوئے ہیں
اسی خاطر تو کُملائے ہوئے ہیں
ہمارے عمر کٹتی جا رہی ہے
سو ہم بھی شام کے سائے ہوئے ہیں
ہمیں مالِ غنیمت ہی سمجھ لو
تمہارے ہاتھ ہم آئے ہوئے ہیں
جب پتھروں کے شہر میں ہم نے اذان دی
اس روز مُورتوں کو خدا نے زبان دی
پھر کیا بچے گا تیری مسیحائی کا بھرم
جب تیرے در پہ میں نے کسی روز جان دی
مجھ کو ملے وہ تیر، شکستہ تھے جن کے پھل
پھر اس پہ مستزاد کہ ٹوٹی کمان دی
آنکھ سمندر
بِہتے بِہتے
حال دلوں کا کہتے کہتے
جس پل تھم کر پل بھر سوچے
اچھا تھا خاموش ہی رہتے
نیر کی دھارا جب تھم جائے