Showing posts with label حماد یونس. Show all posts
Showing posts with label حماد یونس. Show all posts

Monday, 6 March 2023

اب وہ لوگ کہاں باقی ہیں

 اُس نے پوچھا

اِس دنیا میں

کتنے لوگ ہیں 

جن کا ایک فریم میں آنا

یا پل بھر کا ساتھ

قیامت ڈھا سکتا ہے

Wednesday, 4 January 2023

یہ شب مجھ سے کنارہ کر رہی ہے

 یہ شب مجھ سے کنارہ کر رہی ہے

بڑا گھاٹے کا سودا کر رہی ہے

نہ پوچھو میری رُسوائی کا عالم

چلو، خلقت تماشا کر رہی ہے

ہجومِ شہرِ نا پُرساں میں ہم کو

محبت کیسے  تنہا کر رہی ہے

Wednesday, 14 September 2022

یہ رات ہے یا رات کا اک عکس ہے

 شہر پناہ


اے ہم سخن

خاموش رہ، آہٹ نہ کر

یہ رات ہے

یا رات کا  اک عکس ہے

ہے رات کا دستور یہ

مقصود یہ، منشور یہ

Thursday, 18 August 2022

برکھا رت برستی برکھا ہمارے اشکوں کی آخری یاد بن کے

 برکھا رُت


برستی برکھا

ہمارے اشکوں کی آخری یاد بن کے

ویران ریگزاروں

کہیں پہ مدفون شہر کی زیست کے مزاروں

کہیں عقوبت کدوں میں

Monday, 15 August 2022

نیا اک زخم ہم کھائے ہوئے ہیں

 نیا اک زخم ہم کھائے ہُوئے ہیں

اسی خاطر تو کُملائے ہوئے ہیں

ہمارے عمر کٹتی جا رہی ہے

سو ہم بھی شام کے سائے ہوئے ہیں

ہمیں مالِ غنیمت ہی سمجھ لو

تمہارے ہاتھ ہم آئے ہوئے ہیں

Sunday, 14 August 2022

جب پتھروں کے شہر میں ہم نے اذان دی

 جب پتھروں کے شہر میں ہم نے اذان دی

اس روز مُورتوں کو خدا نے زبان دی

پھر کیا بچے گا تیری مسیحائی کا بھرم

جب تیرے در پہ میں نے کسی روز جان دی

مجھ کو ملے وہ تیر، شکستہ تھے جن کے پھل

پھر اس پہ مستزاد کہ ٹوٹی کمان دی

Thursday, 16 June 2022

آنکھ سمندر بِہتے بِہتے

 آنکھ سمندر

بِہتے بِہتے

حال دلوں کا کہتے کہتے

جس پل تھم کر پل بھر سوچے

اچھا تھا خاموش ہی رہتے

نیر کی دھارا جب تھم جائے