Showing posts with label بہنام احمد. Show all posts
Showing posts with label بہنام احمد. Show all posts

Wednesday, 20 October 2021

خوشی خوشی سے مگر اپنے بن رہا ہوں میں

 خوشی خوشی سے مگر اپنے بِن رہا ہوں میں

کہیں گزارے ہوئے سال گِن رہا ہوں میں

میں کیا بتاؤں؟ یہاں رہنا کتنا مشکل ہے

خود امتحان تھا خود ممتحن رہا ہوں میں

اب اعتبار نہیں سردیوں کی بارش کا

سو تم بتاؤ یہاں کتنے دن رہا ہوں میں

Thursday, 5 August 2021

گزر ہی جائے گی شب رابطہ نہیں کرنا

 گزر ہی جائے گی شب، رابطہ نہیں کرنا

یہ میری ضد ہے، کہ اب رابطہ نہیں کرنا

پرائے دیس میں کیا عید، اور خوشی کیسی

کہ میرے اپنوں نے جب رابطہ نہیں کرنا

بڑا شجر ہوں میں گھر کا سو جانتا ہوں میاں

کسی پرند نے اب رابطہ نہیں کرنا

Tuesday, 29 June 2021

جس طرح سے پینٹ کی ہے میں نے یہ ویسی نہیں

 جس طرح سے پینٹ کی ہے میں نے یہ ویسی نہیں

زندگی دراصل اپنی اصل میں اچھی نہیں

وہ دِیا ہوتے ہوئے بھی روشنی کیسے کرے

جس کے شانے پر تمہارے ہاتھ کی تھپکی نہیں

فون نمبر بھی لیا ہے اس کا، اور تصویر بھی

بات بھی جاری ہے تب سے آنکھ بھی جھپکی نہیں

Monday, 21 June 2021

ایسی تنہائی کہ دشمن ہے نہ محرم کوئی

 ایسی تنہائی کہ دشمن ہے نہ محرم کوئی

جس جگہ میں ہوں نہیں دوسرا آدم کوئی

ہم تِرے لمس کے مہکائے ہوئے ہیں، ورنہ

کاغذی پھول ہیں، خوشبو نہیں پیہم کوئی

میں تِری سوچ پہ ہنس سکتا ہوں، لیکن دکھ ہے

مسکرانے کا مہینہ ہے محرّم کوئی؟

Sunday, 13 June 2021

باغ میں تو اگر نہیں آتا

 باغ میں تُو اگر نہیں آتا

اس برس بھی ثمر نہیں آتا

میں تجھے صاف دیکھ سکتا ہوں

میں تجھے کیوں نظر نہیں آتا

میرے ہاتھوں میں صرف رستہ ہے

ان لکیروں میں گھر نہیں آتا

Wednesday, 9 June 2021

ہم پہ اترا ہوا عذاب سمجھ

 ہم پہ اترا ہوا عذاب سمجھ

زندگی کو زمیں کا خواب سمجھ

ویسے پانی ہی پی رہا ہوں میں

دوستا! تُو اسے شراب سمجھ

اور تھوڑا سا پاس آ کر دیکھ

دیکھ! دریا کا اضطراب سمجھ

Tuesday, 8 June 2021

وہ آ کے لوٹ گیا کائنات ختم ہوئی

 وہ آ کے لوٹ گیا، کائنات ختم ہوئی

ابھی تو بات چلی تھی کہ رات ختم ہوئی

کسی کے پاس کوئی حل نہیں ہے بارش کا

گھروں کو جائیے سب آج، بات ختم ہوئی

میں جیسے چاہتا تھا ویسے اس کو دیکھ لیا

میں پڑھ رہا تھا جو، وہ کلیات ختم ہوئی

Monday, 7 June 2021

وقت کل بھی ہو مہرباں نہ سمجھ

 وقت کل بھی ہو مہرباں نہ سمجھ

یہ ملاقات رائیگاں نہ سمجھ

ذہن میں رکھ بلندیوں کو، مگر

دیکھ تُو خود کو آسماں نہ سمجھ

اس کے آنچل کو بادبان نہ جان

اس کی بانہوں کو کشتیاں نہ سمجھ

پرائے شہر میں اک آشنا میسر ہو

 پرائے شہر میں اک آشنا میسر ہو

میں چاہتا ہوں کوئی آئینہ میسر ہو

بچھڑ بھی جائیں تو اک دوسرے کو دیکھ سکیں

کہ دوریوں میں بھی اک رابطہ میسر ہو

فضائے سبز بناؤں فسردہ عالم میں 

جو آسماں سے الگ ہو، جدا میسر ہو

Sunday, 23 May 2021

یہی تو بات گوارا نہیں محبت کو

 یہی تو بات گوارا نہیں محبت کو

کہ دستیاب میں سارا نہیں محبت کو

سخن شناس مِری بات کی گواہی دیں

بسر کیا ہے گزارا نہیں محبت کو

جو بات سچ ہے اسے صاف صاف کہہ دی ہے

دعائیں دوں گا، سہارا نہیں محبت کو