خوشی خوشی سے مگر اپنے بِن رہا ہوں میں
کہیں گزارے ہوئے سال گِن رہا ہوں میں
میں کیا بتاؤں؟ یہاں رہنا کتنا مشکل ہے
خود امتحان تھا خود ممتحن رہا ہوں میں
اب اعتبار نہیں سردیوں کی بارش کا
سو تم بتاؤ یہاں کتنے دن رہا ہوں میں
خوشی خوشی سے مگر اپنے بِن رہا ہوں میں
کہیں گزارے ہوئے سال گِن رہا ہوں میں
میں کیا بتاؤں؟ یہاں رہنا کتنا مشکل ہے
خود امتحان تھا خود ممتحن رہا ہوں میں
اب اعتبار نہیں سردیوں کی بارش کا
سو تم بتاؤ یہاں کتنے دن رہا ہوں میں
گزر ہی جائے گی شب، رابطہ نہیں کرنا
یہ میری ضد ہے، کہ اب رابطہ نہیں کرنا
پرائے دیس میں کیا عید، اور خوشی کیسی
کہ میرے اپنوں نے جب رابطہ نہیں کرنا
بڑا شجر ہوں میں گھر کا سو جانتا ہوں میاں
کسی پرند نے اب رابطہ نہیں کرنا
جس طرح سے پینٹ کی ہے میں نے یہ ویسی نہیں
زندگی دراصل اپنی اصل میں اچھی نہیں
وہ دِیا ہوتے ہوئے بھی روشنی کیسے کرے
جس کے شانے پر تمہارے ہاتھ کی تھپکی نہیں
فون نمبر بھی لیا ہے اس کا، اور تصویر بھی
بات بھی جاری ہے تب سے آنکھ بھی جھپکی نہیں
ایسی تنہائی کہ دشمن ہے نہ محرم کوئی
جس جگہ میں ہوں نہیں دوسرا آدم کوئی
ہم تِرے لمس کے مہکائے ہوئے ہیں، ورنہ
کاغذی پھول ہیں، خوشبو نہیں پیہم کوئی
میں تِری سوچ پہ ہنس سکتا ہوں، لیکن دکھ ہے
مسکرانے کا مہینہ ہے محرّم کوئی؟
باغ میں تُو اگر نہیں آتا
اس برس بھی ثمر نہیں آتا
میں تجھے صاف دیکھ سکتا ہوں
میں تجھے کیوں نظر نہیں آتا
میرے ہاتھوں میں صرف رستہ ہے
ان لکیروں میں گھر نہیں آتا
ہم پہ اترا ہوا عذاب سمجھ
زندگی کو زمیں کا خواب سمجھ
ویسے پانی ہی پی رہا ہوں میں
دوستا! تُو اسے شراب سمجھ
اور تھوڑا سا پاس آ کر دیکھ
دیکھ! دریا کا اضطراب سمجھ
وہ آ کے لوٹ گیا، کائنات ختم ہوئی
ابھی تو بات چلی تھی کہ رات ختم ہوئی
کسی کے پاس کوئی حل نہیں ہے بارش کا
گھروں کو جائیے سب آج، بات ختم ہوئی
میں جیسے چاہتا تھا ویسے اس کو دیکھ لیا
میں پڑھ رہا تھا جو، وہ کلیات ختم ہوئی
وقت کل بھی ہو مہرباں نہ سمجھ
یہ ملاقات رائیگاں نہ سمجھ
ذہن میں رکھ بلندیوں کو، مگر
دیکھ تُو خود کو آسماں نہ سمجھ
اس کے آنچل کو بادبان نہ جان
اس کی بانہوں کو کشتیاں نہ سمجھ
پرائے شہر میں اک آشنا میسر ہو
میں چاہتا ہوں کوئی آئینہ میسر ہو
بچھڑ بھی جائیں تو اک دوسرے کو دیکھ سکیں
کہ دوریوں میں بھی اک رابطہ میسر ہو
فضائے سبز بناؤں فسردہ عالم میں
جو آسماں سے الگ ہو، جدا میسر ہو
یہی تو بات گوارا نہیں محبت کو
کہ دستیاب میں سارا نہیں محبت کو
سخن شناس مِری بات کی گواہی دیں
بسر کیا ہے گزارا نہیں محبت کو
جو بات سچ ہے اسے صاف صاف کہہ دی ہے
دعائیں دوں گا، سہارا نہیں محبت کو