Showing posts with label قیصر شمیم. Show all posts
Showing posts with label قیصر شمیم. Show all posts

Wednesday, 16 September 2020

شکستہ خواب کے ملبے میں ڈھونڈھتا کیا ہے

شکستہ خواب کے ملبے میں ڈھونڈھتا کیا ہے
کھنڈر کھنڈر ہے یہاں دھول کے سوا کیا ہے
نظر کی دھند میں ہیں بھولی بسری تصویریں
پلٹ کے دیکھنے والے، یہ دیکھنا کیا ہے؟
ابھی تو کاٹ رہی ہے ہر ایک سانس کی دھار
ازل جب آئے تو دیکھوں کہ انتہا کیا ہے

Tuesday, 15 September 2020

ایک پودا جو اگا ہے اسے پانی دینا

ایک پودا جو اگا ہے اسے پانی دینا
اپنے آنگن کو نئی رُت کی کہانی دینا
تِری آواز سے جب ٹوٹے مِرے گھر کا سکوت
در و دیوار کو بھی سحر بیانی دینا
پونچھ لینا مِری پلکوں سے لہو کی بوندیں
مِری آنکھوں کو اگر منظر ثانی دینا

Monday, 14 September 2020

کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میں

کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میں 
گھرا ہوا ہوں ابھی تک انا کے بندوں میں 
نہ کوئی سمت مقرر، نہ کوئی جائے قرار 
ہے انتشار کا عالم ہوا کے بندوں میں 
وہ کون ہے جو نہیں اپنی مصلحت کا غلام 
کہاں ہے بُوئے وفا، اب وفا کے بندوں میں 

Sunday, 13 September 2020

وہ جو سب کا بہت چہیتا تھا

وہ جو سب کا بہت چہیتا تھا
قبر کی ساعتوں میں تنہا تھا
جس نے دنیا کو خوب دیکھا تھا
اس کی آنکھوں میں قہقہہ سا تھا
رنج کیا خواب کے بکھرنے کا
کچھ نہ تھا ریت کا گھروندا تھا

Thursday, 10 September 2020

میں اندھیرے میں ہوں روشنی دے خدا

میں اندھیرے میں ہوں روشنی دے خدا
آگہی دے خدا، 🙏 آگہی دے خدا
تیرے بندے کا دل بجھ نہ جائے کہیں 
غم دئیے ہیں بہت، کچھ خوشی دے خدا
یا خدا، یا خدا! کی صدا لب پہ ہو
وجد کرتی ہوئی زندگی دے خدا

موسم تو بدلتے ہیں لیکن کیا گرم ہوا کیا سرد ہوا

موسم تو بدلتے ہیں لیکن، کیا گرم ہوا، کیا سرد ہوا
اے دوست ہمارے آنگن میں رہتی ہے ہمیشہ زرد ہوا
سب اپنے شناسا چھوڑ گئے رستے میں ہمیں غیروں کی طرح
چہرے پہ ہمارے ڈال گئی لا کر یہ کہاں کی گرد ہوا؟
چھُوٹے نہ کبھی پھولوں کا نگر کوشش تو یہی ہے اپنی مگر
اک روز اڑا لے جائے گی، پتوں کی طرح بے درد ہوا

Wednesday, 29 July 2020

تھوڑی سی شہرت بھی ملی ہے تھوڑی سی بدنامی بھی

تھوڑی سی شہرت بھی ملی ہے تھوڑی سی بدنامی بھی
میری سیرت میں اے قیصر خوبی بھی ہے خامی بھی
کتنے عاشق سنبھل گئے ہیں میرا فسانہ سن سن کر
میرے حق میں جیسی بھی ہو کام کی ہے ناکامی بھی
محفل محفل ذکر ہمارا سوچ سمجھ کے کر واعظ
اپنے مخالف بھی ہیں کتنے اور ہیں کتنے حامی بھی

Wednesday, 11 May 2016

اب اپنی ذات سے آگے سفر کیا جائے

اب اپنی ذات سے آگے سفر کِیا جائے
ہر ایک مرحلۂ درد سر کِیا جائے
شکارِ کم نظری کیوں ہو کوئی میری طرح
کشادہ زاویۂ ہر نظر کِیا جائے
رہی ہے اپنی روش مختلف تو پھر ہر کام
خلافِ رسم ہی شام و سحر کِیا جائے

ہم نے جو راہ منتخب کی ہے

ہم نے جو راہ منتخب کی ہے
یاد رکھنا بڑے غضب کی ہے
جان کی اپنی، فکر کب کی ہے
ہم نے کس سے اماں طلب کی ہے
جانتے ہیں سبب تباہی کا
کب ہمیں جستجو سبب کی ہے

اک نظر تو میری طرف بھی دیکھ

اک نظر تو میری طرف بھی دیکھ
پھر مِرے دشمنوں کی صف بھی دیکھ
دیکھ خلوت میں سر خمیدہ مجھے
اور جلوت میں سر بکف بھی دیکھ
ابر نیساں! گزر نہ جا یوں ہی
تہی آغوشئ صدف بھی دیکھ

ہونے لگے ہیں رستے رستے آپس کے ٹکراؤ بہت

ہونے لگے ہیں رستے رستے، آپس کے ٹکراؤ بہت
ایک ساتھ کے چلنے والوں میں بھی ہے الگاؤ بہت
بہکے بہکے سے بادل ہے کیا جانے یہ جائیں کدھر
بدلی ہوئی ہواؤں کا ہے ان پر آج دباؤ بہت
سوچ کا ہے یہ پھر کہ یارو! پیچ و خم کی دنیا میں
ڈھونڈ رہے ہو ایسا رستہ جس میں نہیں گھماؤ بہت