Showing posts with label مینا نقوی. Show all posts
Showing posts with label مینا نقوی. Show all posts

Saturday, 30 December 2023

زیر و زبر ہے دھڑکن تحریر ہے سوالی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زیر و زبر ہے دھڑکن تحریر ہے سوالی

در پر نبیؐ کے میری تقدیر ہے سوالی

خوابوں میں سبز گُنبد کا دلنشیں ہے منظر

ہو گا یہ کب حقیقت؟ تعبیر ہے سوالی

لب پر ہو نامِ احمدؐ جب میں جہاں سے جاؤں

رب سے مِری دُعا کی تاثیر ہے سوالی

Thursday, 21 December 2023

محبت میں عقیدے کی پذیرائی ضروری ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


محبت میں عقیدے کی پذیرائی ضروری ہے

محمدﷺ کے لیے لفظوں میں سچائی ضروری ہے

ہو اتنی تاب اِن آنکھوں میں ان کا دیکھ لوں روضہ

مگر اس کے لیے آنکھوں میں بینائی ضروری ہے

میں اس سے پہلے کہ آباد کر لوں قبر کا گوشہ

مجھے اک بار پھر کعبے کی انگنائی ضروری ہے

Wednesday, 10 May 2023

وہ نور حق رحمتوں کے پیکر سلام ان پر درود ان پر

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


وہ نورِ حق رحمتوں کے پیکر سلام انؐ پر درود انؐ پر

ہے جن کے دم سے جہاں منور سلام ان پر درود ان پر

فلک پہ جن کو خدا بلائے، رموزِ پیغمبری بتائے

وہ رب کے محبوب اور پیمبر سلام ان پر درود ان پر

غریب و مسکین کے مسیحا، عجم کے مالک وہ شاہِ بطحا

بندھے ہیں جن کے شکم سے پتھر سلام ان پر درود ان پر

Wednesday, 2 November 2022

کوئی حالات کی گردش سے نکالے مجھ کو

 کوئی حالات کی گردش سے نکالے مجھ کو

مکڑیاں وقت کی پہنا گئیں جالے مجھ کو

جب تِری یادوں کی وادی میں سفر کرتی ہوں

ڈسنے لگتے ہیں اندھیروں میں اجالے مجھ کو

صبر کے شمع تجھے دیکھ کے پگھلی ورنہ

مدتوں تک رہا طوفان سنبھالے مجھ کو

Friday, 17 December 2021

اپنے احساس کو دھڑکن میں چھپاتی ہوئی میں

 اپنے احساس کو دھڑکن میں چھپاتی ہوئی میں

اپنے ہر کرب کو سینے سے لگاتی ہوئی میں

یہ حقیقت ہے، فسانہ نہیں سمجھے کوئی

نوکِ نیزے پہ بیاں حق کا سناتی ہوئی میں

دل کے جذبات کو رسموں میں مقید کر کے

صبر اور ضبط کو اطوار بناتی ہوئی میں

Saturday, 27 November 2021

گڑ گئیں جسم میں احساس کے کیلیں کیسے

 گڑ گئیں جسم میں احساس کے کیلیں کیسے

منجمد ہو گئیں جذبات کی جھیلیں کیسے

تلخ پانی کا سمندر ہے ہمارا مسکن

کیا خبر سجتی ہیں ہر سمت سبیلیں کیسے

ہم نے زنبیلِ محبت میں رکھا تھا جن کو

منتشر ہو گئیں وہ درد کی کھیلیں کیسے

Monday, 16 November 2020

احساس کی امین ہوں پتھر نہیں ہوں میں

 احساس کی امین ہوں پتھر نہیں ہوں میں

کیسے تراشوں تجھ کو کہ آزر نہیں ہوں میں

یہ کم نہیں کہ اپنا بتاتے ہیں مجھ کو لوگ

یہ اور بات خود کو میسر نہیں میں

میں تجھ سے چند قطرے طلب کس لیے کروں

مے خانہ میرے نام ہے ساغر نہیں ہوں میں

Monday, 13 January 2020

آشنائی کی ردا اس دھوپ میں تانے کون

آشنائی کی ردا اس دھوپ میں تانے کون
ایسی انجانی فضا میں ہم کو پہچانے گا کون
آبلہ پا، جسم زخمی، اشک آنکھیں، دل لہو
خاک میرے بعد صحراؤں کی یوں چھانے گا کون
جب محبت کے دیوں سے روشنی اڑ جائے گی
چاند تارے توڑ کر لانے کی پھر ٹھانے گا کون

نقش تعبیر کے کانٹوں میں ابھارے گئے ہیں

نقش تعبیر کے کانٹوں میں ابھارے گئے ہیں
خواب آنکھوں میں مِری یوں بھی سنوارے گئے ہیں
پہلے رسموں کی رسن سانسوں میں باندھی گئی ہے
زندگی کے لیے پھر ہم ہی پکارے گئے ہیں
پانی پینا بھی نہیں، پیاس بجھانی بھی نہیں
جانے کیوں لوگ وہ دریا کے کنارے گئے ہیں

خودی کو آ گئی ہنسی امید کے سوال پر

خودی کو آ گئی ہنسی امید کے سوال پر
اندھیرے تلملا اٹھے چراغ کی مجال پر
یہ چاہتوں کا درد ہے یہ قربتوں کا حشر ہے
جو دھوپ چھپ کے روئی آفتاب کے زوال پر
یہ جان کر کہ چاند میرے گھر میں جگمگائے گا
ستارے آج شام سے ہی آگئے کمال پر

Tuesday, 7 January 2020

تیز جب گردش حالات ہوا کرتی ہے

تیز جب گردش حالات ہوا کرتی ہے 
روشنی دن کی سِیہ رات ہوا کرتی ہے 
رنج اور غم کی جو برسات ہوا کرتی ہے 
دولتِ عشق کی خیرات ہوا کرتی ہے 
جب خیالوں میں دبے پاؤں وہ آ جاتا ہے 
وہ ملاقات "ملاقات" ہوا کرتی ہے 

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں انساں نہیں ہوں میں

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں انساں نہیں ہوں میں
ان کو خبر نہیں یہ کہ بے جاں نہیں ہوں
خوشبو ہوں، تازگی ہوں، گھٹا ہوں، بہار ہوں
بادِ صبا کا لمس ہوں، طوفاں نہیں ہوں میں
میرے بدن کو تکتی نگاہو! ذرا سنو
چادر حیا کی اوڑھے ہوں عُریاں نہیں ہوں میں

جذب آنکھوں میں اگر خواب نہیں ہونے کے

جذب آنکھوں میں اگر خواب نہیں ہونے کے
معتبر عشق کے آداب نہیں ہونے کے
ہم نے پلکوں میں چھپا رکھے ہیں اپنے آنسو
رائیگاں گوہرِ نایاب نہیں ہونے کے
بے حسی لے گئی جذبات کی ساری خوشبو
اب یہ غنچے کبھی شاداب نہیں ہونے کے

وہ ہے اپنا یہ جتانا بھی نہیں چاہتے ہم

وہ ہے اپنا، یہ جتانا بھی نہیں چاہتے ہم
دل کو اب اور دُکھانا بھی نہیں چاہت ہم
آرزو ہے کہ وہ ہر بات کو خود ہی سمجھے
دل میں کیا کیا ہے دِکھانا بھی نہیں چاہتے ہم
ایک پردے نے بنا رکھا ہے دونوں کا بھرم
اور وہ پردہ ہٹانا بھی نہیں چاہتے ہم

Saturday, 2 April 2016

جب تعلق کو نبھانے کے بھی لالے پڑ جائیں

جب تعلق کو نبھانے کے بھی لالے پڑ جائیں
کیوں ہرن دشتِ محبت کے نہ کالے پڑ جائیں
چاہتیں کس طرح داخل ہوں گھروں کے اندر
دل کی دہلیز پہ نفرت کے جو تالے پڑ جائیں
سچ اگر کہہ دوں تو ہے دار و رسن کا خطرہ
جھوٹ بولوں تو مِری روح میں چھالے پڑ جائیں

محبتوں میں وفا کا نصاب دے گا کون

محبتوں میں وفا کا نصاب دے گا کون
اندھیری شب کے لیے آفتاب دے گا کون
تم اپنی نیند سے جاگو تو اک سوال کریں
کہ رت جگوں کا ہمارے حساب دے گا کون
اگر رہے گا یہی حال بے نیازی کا
تمہارے ہاتھ میں دل کی کتاب دے گا کون

کیسے لے جائیں کسی کو عشق کی گہرائی تک

کیسے لے جائیں کسی کو عشق کی گہرائی تک
سوز سے اپنے جلا لیتی ہے لب شہنائی تک
عشق کی لو آ گئی ہے روح کی گہرائی تک
کاش یہ شعلہ نہ پہنچے دامنِ رسوائی تک
لمحہ لمحہ اس کے آنے کا گماں ہوتا رہا
آہٹیں آتی رہیں دہلیز سے انگنائی تک

کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں

کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں
اک انتظار کا موسم رہا ہے آنکھوں میں
کبھی وہ خشک کبھی نم  رہا ہے آنکھوں میں
ٹھہر ٹھہر کے یہ زم زم  رہا ہے آنکھوں میں
بسا ہوا ہے تصور میں اک حسیں پیکر
کوئی خیال مجسم  رہا ہے آنکھوں میں