عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زیر و زبر ہے دھڑکن تحریر ہے سوالی
در پر نبیؐ کے میری تقدیر ہے سوالی
خوابوں میں سبز گُنبد کا دلنشیں ہے منظر
ہو گا یہ کب حقیقت؟ تعبیر ہے سوالی
لب پر ہو نامِ احمدؐ جب میں جہاں سے جاؤں
رب سے مِری دُعا کی تاثیر ہے سوالی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زیر و زبر ہے دھڑکن تحریر ہے سوالی
در پر نبیؐ کے میری تقدیر ہے سوالی
خوابوں میں سبز گُنبد کا دلنشیں ہے منظر
ہو گا یہ کب حقیقت؟ تعبیر ہے سوالی
لب پر ہو نامِ احمدؐ جب میں جہاں سے جاؤں
رب سے مِری دُعا کی تاثیر ہے سوالی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محبت میں عقیدے کی پذیرائی ضروری ہے
محمدﷺ کے لیے لفظوں میں سچائی ضروری ہے
ہو اتنی تاب اِن آنکھوں میں ان کا دیکھ لوں روضہ
مگر اس کے لیے آنکھوں میں بینائی ضروری ہے
میں اس سے پہلے کہ آباد کر لوں قبر کا گوشہ
مجھے اک بار پھر کعبے کی انگنائی ضروری ہے
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
وہ نورِ حق رحمتوں کے پیکر سلام انؐ پر درود انؐ پر
ہے جن کے دم سے جہاں منور سلام ان پر درود ان پر
فلک پہ جن کو خدا بلائے، رموزِ پیغمبری بتائے
وہ رب کے محبوب اور پیمبر سلام ان پر درود ان پر
غریب و مسکین کے مسیحا، عجم کے مالک وہ شاہِ بطحا
بندھے ہیں جن کے شکم سے پتھر سلام ان پر درود ان پر
کوئی حالات کی گردش سے نکالے مجھ کو
مکڑیاں وقت کی پہنا گئیں جالے مجھ کو
جب تِری یادوں کی وادی میں سفر کرتی ہوں
ڈسنے لگتے ہیں اندھیروں میں اجالے مجھ کو
صبر کے شمع تجھے دیکھ کے پگھلی ورنہ
مدتوں تک رہا طوفان سنبھالے مجھ کو
اپنے احساس کو دھڑکن میں چھپاتی ہوئی میں
اپنے ہر کرب کو سینے سے لگاتی ہوئی میں
یہ حقیقت ہے، فسانہ نہیں سمجھے کوئی
نوکِ نیزے پہ بیاں حق کا سناتی ہوئی میں
دل کے جذبات کو رسموں میں مقید کر کے
صبر اور ضبط کو اطوار بناتی ہوئی میں
گڑ گئیں جسم میں احساس کے کیلیں کیسے
منجمد ہو گئیں جذبات کی جھیلیں کیسے
تلخ پانی کا سمندر ہے ہمارا مسکن
کیا خبر سجتی ہیں ہر سمت سبیلیں کیسے
ہم نے زنبیلِ محبت میں رکھا تھا جن کو
منتشر ہو گئیں وہ درد کی کھیلیں کیسے
احساس کی امین ہوں پتھر نہیں ہوں میں
کیسے تراشوں تجھ کو کہ آزر نہیں ہوں میں
یہ کم نہیں کہ اپنا بتاتے ہیں مجھ کو لوگ
یہ اور بات خود کو میسر نہیں میں
میں تجھ سے چند قطرے طلب کس لیے کروں
مے خانہ میرے نام ہے ساغر نہیں ہوں میں