Friday, 17 December 2021

اپنے احساس کو دھڑکن میں چھپاتی ہوئی میں

 اپنے احساس کو دھڑکن میں چھپاتی ہوئی میں

اپنے ہر کرب کو سینے سے لگاتی ہوئی میں

یہ حقیقت ہے، فسانہ نہیں سمجھے کوئی

نوکِ نیزے پہ بیاں حق کا سناتی ہوئی میں

دل کے جذبات کو رسموں میں مقید کر کے

صبر اور ضبط کو اطوار بناتی ہوئی میں

جگنو امید کے آنچل میں سرِ شام لیے

گھر کی چوکھٹ پہ نئے دیپ جلاتی ہوئی میں

اپنی آنکھوں میں لیے اشکِ ندامت کی فرات

تشنگی درد کے صحرا کی بجھاتی ہوئی میں

عزم سے منزلیں سر کر کے وفا کی مینا

وقت کے چہرے کو آئینہ دکھاتی ہوئی میں


مینا نقوی

No comments:

Post a Comment