اپنے احساس کو دھڑکن میں چھپاتی ہوئی میں
اپنے ہر کرب کو سینے سے لگاتی ہوئی میں
یہ حقیقت ہے، فسانہ نہیں سمجھے کوئی
نوکِ نیزے پہ بیاں حق کا سناتی ہوئی میں
دل کے جذبات کو رسموں میں مقید کر کے
صبر اور ضبط کو اطوار بناتی ہوئی میں
جگنو امید کے آنچل میں سرِ شام لیے
گھر کی چوکھٹ پہ نئے دیپ جلاتی ہوئی میں
اپنی آنکھوں میں لیے اشکِ ندامت کی فرات
تشنگی درد کے صحرا کی بجھاتی ہوئی میں
عزم سے منزلیں سر کر کے وفا کی مینا
وقت کے چہرے کو آئینہ دکھاتی ہوئی میں
مینا نقوی
No comments:
Post a Comment