کوئی عورت کوئی بوڑھا یا بچہ دیکھ لیتے ہیں
جدھر کو تیر پھینکیں وہ نشانہ دیکھ لیتے ہیں
ہمیں گھر سے نکلنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی
ہم آنکھیں بند کر کے ساری دنیا دیکھ لیتے ہیں
پرانے یار ملنے سے پرانے دن نہیں آتے
مگر کچھ دیر بچپن کا زمانہ دیکھ لیتے ہیں
کوئی عورت کوئی بوڑھا یا بچہ دیکھ لیتے ہیں
جدھر کو تیر پھینکیں وہ نشانہ دیکھ لیتے ہیں
ہمیں گھر سے نکلنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی
ہم آنکھیں بند کر کے ساری دنیا دیکھ لیتے ہیں
پرانے یار ملنے سے پرانے دن نہیں آتے
مگر کچھ دیر بچپن کا زمانہ دیکھ لیتے ہیں
ہم تِرے کوچے میں آئیں اتنے سودائی نہیں
اس طرح تُو ہی بتا کیا تیری رسوائی نہیں
اس طرف اک لشکرِ اعدا ہے مصروفِ قتال
اس طرف برہم صفوں میں ایک بھی بھائی نہیں
اب تمہاری یاد میں رونے کی فرصت بھی کہاں
اب میسر ہی ہمیں وہ شامِ تنہائی نہیں
یہ جانتے تھے کہ ملنا اُداس کر دے گا
کسے خبر تھی کہ اتنا اداس کر دے گا
یہ جان کر بھی ہے کتنا تِرا خیال عزیز
تِرے خیال کا رہنا اداس کر دے گا
میں کچھ نہیں ہوں تو ہونے کی کوششوں میں ہوں
اگرچہ بعد میں ہونا اداس کر دے گا
عذاب رُت میں جو اُترے وہ کیا صحیفے تھے
گُلاب شہر کے حا کم ببُول زادے تھے
جو آج سر سے اُٹھا میر ے باپ کا سایہ
نظر پڑا ہے کہ کتنے یتیم بچے تھے
وہ جس کی لاش کو کاندھا دیا ہے غیروں نے
پرائے دیس میں اس کے بھی چار بیٹے تھے
موسم گل حیران کھڑا ہے
گھر کا گھر ویران پڑا ہے
دل کی بات بتائیں کیسے
یارو! وہ نادان بڑا ہے
ہم اور اس کو سجدہ کرتے؟
کافر نے بُہتان گھڑا ہے
ہر نفس موجِ بے تاب کی اک صورت ہے
زندگی ذات میں گرداب کی اک صورت ہے
اشک بھی رکھتا ہے اک اپنی زباں سمجھو تو
حرف بھی قطرۂ خونناب کی اک صورت ہے
لوٹ کر آتے ہیں گزرے ہوئے دن کب لیکن
یاد بھی صحبتِ احباب کی اک صورت ہے
بے کار گیا میں نے جو ہتھیار خریدا
دشمن نے مِری فوج کا سالار خریدا
جتنے تھے فصیلوں پہ کماندار ملائے
شاہ در کا محافظ پسِ دیوار خریدا
بازار سے ہر رنگ کی دستار خریدی
ہر شہر سے اک اپنا نمک خوار خریدا