Showing posts with label کلیم احسان. Show all posts
Showing posts with label کلیم احسان. Show all posts

Wednesday, 13 April 2022

کوئی عورت کوئی بوڑھا یا بچہ دیکھ لیتے ہیں

 کوئی عورت کوئی بوڑھا یا بچہ دیکھ لیتے ہیں

جدھر کو تیر پھینکیں وہ نشانہ دیکھ لیتے ہیں

ہمیں گھر سے نکلنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی

ہم آنکھیں بند کر کے ساری دنیا دیکھ لیتے ہیں

پرانے یار ملنے سے پرانے دن نہیں آتے

مگر کچھ دیر بچپن کا زمانہ دیکھ لیتے ہیں

Wednesday, 2 June 2021

ہم ترے کوچے میں آئیں اتنے سودائی نہیں

 ہم تِرے کوچے میں آئیں اتنے سودائی نہیں

اس طرح تُو ہی بتا کیا تیری رسوائی نہیں

اس طرف اک لشکرِ اعدا ہے مصروفِ قتال

اس طرف برہم صفوں میں ایک بھی بھائی نہیں

اب تمہاری یاد میں رونے کی فرصت بھی کہاں

اب میسر ہی ہمیں وہ شامِ تنہائی نہیں

Thursday, 6 May 2021

یہ جانتے تھے کہ ملنا اداس کر دے گا

 یہ جانتے تھے کہ ملنا اُداس کر دے گا

کسے خبر تھی کہ اتنا اداس کر دے گا

یہ جان کر بھی ہے کتنا تِرا خیال عزیز

تِرے خیال کا رہنا اداس کر دے گا

میں کچھ نہیں ہوں تو ہونے کی کوششوں میں ہوں

اگرچہ بعد میں ہونا اداس کر دے گا

Friday, 30 April 2021

عذاب رت میں جو اترے وہ کیا صحیفے تھے

 عذاب رُت میں جو اُترے وہ کیا صحیفے تھے

گُلاب شہر کے حا کم ببُول زادے تھے

جو آج سر سے اُٹھا میر ے باپ کا سایہ

نظر پڑا ہے کہ کتنے یتیم بچے تھے

وہ جس کی لاش کو کاندھا دیا ہے غیروں نے

پرائے دیس میں اس کے بھی چار بیٹے تھے

Thursday, 29 April 2021

موسم گل حیران کھڑا ہے

 موسم گل حیران کھڑا ہے

گھر کا گھر ویران پڑا ہے

دل کی بات بتائیں کیسے

یارو! وہ نادان بڑا ہے

ہم اور اس کو سجدہ کرتے؟

کافر نے بُہتان گھڑا ہے

Thursday, 22 April 2021

ہر نفس موج بے تاب کی اک صورت ہے

 ہر نفس موجِ بے تاب کی اک صورت ہے

زندگی ذات میں گرداب کی اک صورت ہے

اشک بھی رکھتا ہے اک اپنی زباں سمجھو تو

حرف بھی قطرۂ خونناب کی اک صورت ہے

لوٹ کر آتے ہیں گزرے ہوئے دن کب لیکن

یاد بھی صحبتِ احباب کی اک صورت ہے

Monday, 12 April 2021

بیکار گیا میں نے جو ہتھیار خریدا

 بے کار گیا میں نے جو ہتھیار خریدا

دشمن نے مِری فوج کا سالار خریدا

جتنے تھے فصیلوں پہ کماندار ملائے

شاہ در کا محافظ پسِ دیوار خریدا

بازار سے ہر رنگ کی دستار خریدی

ہر شہر سے اک اپنا نمک خوار خریدا

Wednesday, 9 September 2020

مقام گفتگو آنے سے پہلے

مقامِ گفتگو آنے سے پہلے 
چلا جاتا ہے تو آنے سے پہلے
مِری آنکھوں میں پانی آ گیا تھا
کنارِ آب جو آنے سے پہلے
مزا آئے گا پھر کتنا زیادہ
جو تو آئے سبو آنے سے پہلے

Wednesday, 18 January 2017

مجھ کو آتا نہیں ظالم کی اطاعت کرنا

مجھ کو آتا نہیں ظالم کی اطاعت کرنا 
میری تاریخ میں لکھا ہے بغاوت کرنا
گو کہ یہ کام ضروری بھی نہیں ہے اتنا 
دل کی بس ضد ہے تِرے ساتھ محبت کرنا
لفظ میراث میں چھوڑے ہیں تو ڈر لگتا ہے
مِری اولاد سے مشکل ہے حفاظت کرنا

مرے لشکر کے کماندار مرے قاتل تھے

مِرے لشکر کے کماندار مِرے قاتل تھے
مِرے دشمن تو نہیں، یار مرے قاتل تھے
میں نے خود خون دیا تیغِ عدو کو، ورنہ
بھری دنیا میں بڑے خوار مرے قاتل تھے
کتنا آساں تھا مِرے قتل کا لمحہ ان پر
کیسی مشکل سے یہ دو چار مرے قاتل تھے

دل لگی سی دل لگانے سے رہی

دل لگی سی دل لگانے سے رہی
ایک رونق اس بہانے سے رہی
اس قدر صدمے پڑے ہیں جان پر
زندگی اب مسکرانے سے رہی
ایک تو پہلو بدلتے بج گیا
آج شب پھر نیند آنے سے رہی

Friday, 16 December 2016

وہ لگ گیا ہے جان کو آزار دوستا

وہ لگ گیا ہے جان کو آزار دوستا
بیٹھا ہوا ہوں جان سے بیزار دوستا
صد شکر آستینوں میں پنہاں نہیں ہے کچھ
صد حیف تیرے ہاتھ میں تلوار دوستا
ہم نے سنا تھا تجھ سا مسیحا نہیں کوئی
ہم نے سنا کہ مر گیا بیمار دوستا

گھر چھوڑ کر مکین گھروں کے چلے گئے

گھر چھوڑ کر مکین گھروں کے چلے گئے
قسمت میں اس مکان کی جالے لکھے گئے
پہلے تو قتل آلِ پیمبرﷺ کیا گیا
پھر کربلا کی شام پر ماتم کیے گئے
ہر بے خطا کو دار و رسن کی سزا ملی
جب منصفی کے واسطے قاتل چنے گئے

اک شہر غریباں میں فقیروں کی طرح تھے

اک شہرِ غریباں میں فقیروں کی طرح تھے
وہ لوگ جو توقیر میں شاہوں کی طرح تھے
جن لوگوں کو ہم دشمنِ جاں کہتے رہے ہیں
وہ لوگ بھی اپنے ہی عزیزوں کی طرح تھے
وہ یادیں جو مجھ کو مِری ہستی کا نشاں تھیں
وہ خواب جو مجھ کو مِری آنکھوں کی طرح تھے

ٹھہر کے دیکھتے ہیں قافلے سفر والے

ٹھہر کے دیکھتے ہیں قافلے سفر والے
تمہارے روپ سے رشتے ہیں بام و در والے
ہمارے شہر سے طوفاں گزرنے والا ہے
کہ پر سمیٹ کے بیٹھے ہوئے ہیں پر والے
زبان دانوں نے پائی ہیں خلعتیں، لیکن
تمہارے شہر میں رسوا ہوئے ہیں سر والے

کانے دیو نے نگری نگری منتر پھونکا پتھر کا

آدھا دھڑ انسانوں جیسا آدھا دھڑ تھا پتھر کا
کانے دیو نے نگری نگری منتر پھونکا پتھر کا
پتھر کے پانی سے سارے پتھر کے تالاب بھرے
پہلے پتھر آندھی آئی،۔ مینہ پھر برسا پتھر کا
میں نے جس کے دامن کو خوشبو خوشبو رکھا تھا
اس نے میرے صحن کے اندر پھول اگایا پتھر کا

Friday, 21 March 2014

زلف یوں رخ سے ہٹانے کا ہنر جانتا ہے

زلف یوں رخ سے ہٹانے کا ہُنر جانتا ہے
رات کو دن میں ملانے کا ہنر جانتا ہے
گرچہ وہ چاند نہیں، عام سا اِک چہرہ ہے
پھر بھی وہ بزم سجانے کا ہنر جانتا ہے
میری آنکھوں میں مِرا غم ہی نہیں پڑھ سکتا
یوں تو وہ شخص زمانے کا ہنر جانتا ہے

اک تار بھی گریباں کا نہ تار میں رہے

اِک تار بھی گریباں کا نہ تار میں رہے
کب تک کوئی یوں عشق کے آزار میں رہے
ہم کو بھی رنجِ فرقتِ خُوباں نے آ لیا
ہم جو نشاطِ صحبتِ دلدار میں رہے
حاصل اگر نہ ناخنِ تدبیر کا ملے
لذت اگر نہ کاوشِ بے کار میں رہے

اندر سے کھلے گا کہ یہ باہر سے کھلے گا

اندر سے کھلے گا، کہ یہ باہر سے کھلے گا
اس غار کا منہ، کون سے منتر سے کھلے گا
مٹی کو مِری چاک پہ رکھا تو گیا ہے
میں کیا ہوں کسی دستِ ہنرور سے کھلے گا
دستک میں کسی اور کے دروازے پہ دوں گا
دروازہ کوئی اور برابر سے کھلے گا

شہر ویران ہے خبر ہے تمہیں

شہر ویران ہے، خبر ہے تمہیں
کس کا نقصان ہے، خبر ہے تمہیں
عشق کی راہ چل پڑے ہو تم
کتنی سُنسان ہے، خبر ہے تمہیں
یہاں آتی ہے روز بادِ صبا
یہ گلستان ہے، خبر ہے تمہیں