تُو پاس رہے میرے سدا یوں ہی عمر بھر
چاہت بھری رہے یہ فضا یوں ہی عمر بھر
رشتہ ہمارے پیار کا ٹوٹے نہ پھر کبھی
دوری نہ ہو دونوں میں ذرا یوں ہی عمر بھر
ایسے ہی محبت کا گلستاں کھلا رہے
تازہ رہے چمن کی فضا یوں ہی عمر بھر
تُو پاس رہے میرے سدا یوں ہی عمر بھر
چاہت بھری رہے یہ فضا یوں ہی عمر بھر
رشتہ ہمارے پیار کا ٹوٹے نہ پھر کبھی
دوری نہ ہو دونوں میں ذرا یوں ہی عمر بھر
ایسے ہی محبت کا گلستاں کھلا رہے
تازہ رہے چمن کی فضا یوں ہی عمر بھر
ذرا سا وقت دو مجھ کو ابھی کچھ سوچنا ہے
کہیں دل میں محبت ہے خزینہ کھوجنا ہے
کسی بھی بات کا کوئی ابھی وعدہ نہیں کرتی
مجھے ہاتھوں کی ریکھا میں تمہی کو ڈھونڈنا ہے
ہے کتنا پیار تم سے یہ بتاؤں میں ابھی کیسے
ابھی تو آنکھ سے بہتا سمندر روکنا ہے
اشک آنکھوں میں مِری جان لیے بیٹھی ہوں
لب پہ تیرے لیے مسکان لیے بیٹھی ہوں
تم بھی میری طرح کچھ ٹھوس ارادہ کر لو
میں نبھا دینے کے پیمان لیے بیٹھی ہوں
جلد آ جاؤ، خزاں آنے سے پہلے پہلے
میں بہاروں کے کچھ احسان لیے بیٹھی ہوں
ایک جھونکے کی طرح دل میں اترتے کیوں ہو
گر بچھڑنا تھا تو یادوں میں چمکتے کیوں ہو
ہو سکے تو مجھے خوشبو سے معطر کر دو
پھول بن کے میرے بالوں میں اٹکتے کیوں ہو
تم جو کہتے ہو کوئی بات کبھی غزلوں میں
اپنے الفاظ میں کہنے سے جھجکتے کیوں ہو
تنہائی کا بوجھ اٹھائے پھرتی ہوں
آنکھوں کی قندیل جلائے پھرتی ہوں
کون ہے جو دُکھ درد کسی کا بانٹ سکے
اپنے دل کے ساتھ لگائے پھرتی ہوں
عشق میں تیرے ہرجائی اک مدت سے
دیوانوں سا حال بنائے پھرتی ہوں
اشکوں کو تیرے در پہ بہا کر چلے گئے
سپنے ہزار دل میں دبا کر چلے گئے
یکطرفہ ہو کے رہ گئی چاہت وفا میری
آنکھوں میں اشک اپنے چھپا کر چلے گئے
ٹوٹا ہے بے رخی سے تِری آج میرا دل
چپکے سے زخم دل کا بڑھا کر چلے گئے
بعد تیرے یہ شام کے منظر
اب کسی بھی نہ کام کے منظر
کب سے دیکھے نہیں ہیں کھڑکی نے
تیرے میرے سلام کے منظر
میری آنکھوں کے چار سُو اب تک
سب تمہارے ہیں نام کے منظر