Showing posts with label محمود ایاز. Show all posts
Showing posts with label محمود ایاز. Show all posts

Thursday, 10 June 2021

قریب آخر شب ہے مرے گلے لگ جاؤ

 قریب آخر شب ہے مِرے گلے لگ جاؤ

وداع شام طرب ہے مرے گلے لگ جاؤ

اب ایک عمر جدائی کے فاصلے ہوں گے

بس ایک وقفۂ شب ہے مرے گلے لگ جاؤ

گلہ گزار زمانہ ہوں تم خفا کیوں ہو

گلہ تو حسن طلب ہے مرے گلے لگ جاؤ

Tuesday, 27 April 2021

کروڑوں سال کا دیکھا ہوا تماشا ہے

 کروڑوں سال کا دیکھا ہوا تماشا ہے 

یہ رقصِ زیست کہ بے قصد و بے ارادہ ہے 

عجیب موجِ سبک سیر تھی ہوائے جہاں 

گزر گئی تو کوئی نقش ہے، نہ جادہ ہے 

نشاطِ لمحہ کی وہ قیمتیں چکائی ہیں 

کہ اب ذرا سی مسرت پہ دل لرزتا ہے 

Saturday, 24 April 2021

غم دل ہمرہی کرے نہ کرے

 غمِ دل ہمرہی کرے نہ کرے

انجم صبح ہم تو ڈوب چلے

خامشی کس کے نقشِ پا پہ مٹی

راستے کس کو ڈھونڈنے نکلے

چاند تارے بھی شب گزیدہ ہیں

سرِ مژگاں کوئی چراغ جلے

Friday, 23 April 2021

لفظ و منظر میں معانی کو ٹٹولا نہ کرو

 لفظ و منظر میں معانی کو ٹٹولا نہ کرو

ہوش والے ہو تو ہر بات کو سمجھا نہ کرو

وہ نہیں ہے نہ سہی ترک تمنا نہ کرو

دل اکیلا ہے، اسے اور اکیلا نہ کرو

بند آنکھوں میں ہیں نادیدہ زمانے پیدا

کھُلی آنکھوں ہی سے ہر چیز کو دیکھا نہ کرو

چشم مشتاق نے یہ خواب عجب دیکھے ہیں

 چشمِ مشتاق نے یہ خواب عجب دیکھے ہیں 

دل کے آئینے میں سو عکس ہیں سب تیرے ہیں 

زندگی سے بھی نباہیں، تجھے اپنا بھی کہیں 

اس کشاکش میں شب و روز گُزر جاتے ہیں 

خانۂ دل میں تھا کیا کیا نہ اُمیدوں کا ہجوم 

خانہ ویراں ہے تو راضی بہ رضا بیٹھے ہیں

Friday, 13 November 2020

خوشبو کی طرح دل کے گلابوں میں رہے گا

 خوشبو کی طرح دل کے گلابوں میں رہے گا

وہ چاند ہمیشہ میرے خوابوں میں رہے گا

بھیگی ہوئی آنکھوں سے گلے مل کے بچھڑنا

وہ شخص سدا دل کے نصابوں میں رہے گا

شاید میں ابھی اس کے جگر تک نہیں اترا

شاید وہ ابھی اور نقابوں میں رہے گا