قریب آخر شب ہے مِرے گلے لگ جاؤ
وداع شام طرب ہے مرے گلے لگ جاؤ
اب ایک عمر جدائی کے فاصلے ہوں گے
بس ایک وقفۂ شب ہے مرے گلے لگ جاؤ
گلہ گزار زمانہ ہوں تم خفا کیوں ہو
گلہ تو حسن طلب ہے مرے گلے لگ جاؤ
قریب آخر شب ہے مِرے گلے لگ جاؤ
وداع شام طرب ہے مرے گلے لگ جاؤ
اب ایک عمر جدائی کے فاصلے ہوں گے
بس ایک وقفۂ شب ہے مرے گلے لگ جاؤ
گلہ گزار زمانہ ہوں تم خفا کیوں ہو
گلہ تو حسن طلب ہے مرے گلے لگ جاؤ
کروڑوں سال کا دیکھا ہوا تماشا ہے
یہ رقصِ زیست کہ بے قصد و بے ارادہ ہے
عجیب موجِ سبک سیر تھی ہوائے جہاں
گزر گئی تو کوئی نقش ہے، نہ جادہ ہے
نشاطِ لمحہ کی وہ قیمتیں چکائی ہیں
کہ اب ذرا سی مسرت پہ دل لرزتا ہے
غمِ دل ہمرہی کرے نہ کرے
انجم صبح ہم تو ڈوب چلے
خامشی کس کے نقشِ پا پہ مٹی
راستے کس کو ڈھونڈنے نکلے
چاند تارے بھی شب گزیدہ ہیں
سرِ مژگاں کوئی چراغ جلے
لفظ و منظر میں معانی کو ٹٹولا نہ کرو
ہوش والے ہو تو ہر بات کو سمجھا نہ کرو
وہ نہیں ہے نہ سہی ترک تمنا نہ کرو
دل اکیلا ہے، اسے اور اکیلا نہ کرو
بند آنکھوں میں ہیں نادیدہ زمانے پیدا
کھُلی آنکھوں ہی سے ہر چیز کو دیکھا نہ کرو
چشمِ مشتاق نے یہ خواب عجب دیکھے ہیں
دل کے آئینے میں سو عکس ہیں سب تیرے ہیں
زندگی سے بھی نباہیں، تجھے اپنا بھی کہیں
اس کشاکش میں شب و روز گُزر جاتے ہیں
خانۂ دل میں تھا کیا کیا نہ اُمیدوں کا ہجوم
خانہ ویراں ہے تو راضی بہ رضا بیٹھے ہیں
خوشبو کی طرح دل کے گلابوں میں رہے گا
وہ چاند ہمیشہ میرے خوابوں میں رہے گا
بھیگی ہوئی آنکھوں سے گلے مل کے بچھڑنا
وہ شخص سدا دل کے نصابوں میں رہے گا
شاید میں ابھی اس کے جگر تک نہیں اترا
شاید وہ ابھی اور نقابوں میں رہے گا