قلم کباڑ میں دے دی، کتاب ردی میں
فروخت کر دئیے آنکھوں نے خواب ردی میں
عجب نہیں جو مِرا حرف بھی ہے بے توقیر
سخن پڑے ہیں یہاں بے حساب ردی میں
کچھ اس طرح دیا ترتیب عاقبت کا گھر
گناہ شیلف پہ رکھے، ثواب ردی میں
قلم کباڑ میں دے دی، کتاب ردی میں
فروخت کر دئیے آنکھوں نے خواب ردی میں
عجب نہیں جو مِرا حرف بھی ہے بے توقیر
سخن پڑے ہیں یہاں بے حساب ردی میں
کچھ اس طرح دیا ترتیب عاقبت کا گھر
گناہ شیلف پہ رکھے، ثواب ردی میں
لب خموش مِرا بات سے زیادہ ہے
تِرا فراق ملاقات سے زیادہ ہے
یہ اک شکست جو ہم کو ہوئی محبت میں
زمانے بھر کی فتوحات سے زیادہ ہے
بہت ہی غور سے سنتا ہوں دل کی دھڑکن کو
یہ اک صدا سبھی اصوات سے زیادہ ہے
ہم زیاں کار یہی کارِ ہنر کرتے ہیں
زندگی کوئی ملامت میں بسر کرتے ہیں
ہم بھی اک دوسرے سے کاش وہ باتیں کرتے
یہ پرندے جو سرِ شاخِ شجر کرتے ہیں
گوہرِ یاد سرِ خانۂ دل رکھنے کو
کتنے آنسو ہیں جنہیں چشم بدر کرتے ہیں
آنکھ کا بوجھل پن کہتا ہے
بادل رات بہت برسا ہے
سورج کے واپس آنے تک
ایک دِیا جلتا رہتا ہے
دونوں جانب پھُول اُگے ہیں
لیکن رستہ پتھریلا ہے
درد کرتا ہے سفر آنکھ کے اندر کی طرف
اشک گرتے ہیں مگر آنکھ کے اندر کی طرف
جس سے کچھ لوگ گزرتے ہیں سرِ قریۂ جاں
کہیں کھُلتا ہے وہ در آنکھ کے اندر کی طرف
دل کے پاتال میں سو درد نظر آئیں گے
جھانک کچھ اور مگر آنکھ کے اندر کی طرف
اسمِ وفا کھو جائے تو
دل، دنیا ہو جائے تو
آنکھ میں خواہش کا دہقان
خواب کوئی بو جائے تو
نقش ہے دل پر داغِ جنوں
وقت اگر دھو جائے تو
عشق بھی محدود ہے اب کھیل تک
میرا اس کا میل ہے ای میل تک
گھر کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
صحن میں مرجھا چکی ہے بیل تک
کیا کروں اپنی سپہ پر انحصار
سارے بدعنوان ہیں جرنیل تک