Showing posts with label طارق ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label طارق ہاشمی. Show all posts

Tuesday, 15 November 2022

قلم کباڑ میں دے دی کتاب ردی میں

 قلم کباڑ میں دے دی، کتاب ردی میں 

فروخت کر دئیے آنکھوں نے خواب ردی میں 

عجب نہیں جو مِرا حرف بھی ہے بے توقیر 

سخن پڑے ہیں یہاں بے حساب ردی میں 

کچھ اس طرح دیا ترتیب عاقبت کا گھر 

گناہ شیلف پہ رکھے، ثواب ردی میں 

Thursday, 27 January 2022

لب خموش مرا بات سے زیادہ ہے

 لب خموش مِرا بات سے زیادہ ہے

تِرا فراق ملاقات سے زیادہ ہے

یہ اک شکست جو ہم کو ہوئی محبت میں

زمانے بھر کی فتوحات سے زیادہ ہے

بہت ہی غور سے سنتا ہوں دل کی دھڑکن کو

یہ اک صدا سبھی اصوات سے زیادہ ہے

Saturday, 19 June 2021

ہم زیاں کار یہی کار ہنر کرتے ہیں

 ہم زیاں کار یہی کارِ ہنر کرتے ہیں

زندگی کوئی ملامت میں بسر کرتے ہیں

ہم بھی اک دوسرے سے کاش وہ باتیں کرتے

یہ پرندے جو سرِ شاخِ شجر کرتے ہیں

گوہرِ یاد سرِ خانۂ دل رکھنے کو

کتنے آنسو ہیں جنہیں چشم بدر کرتے ہیں

Thursday, 20 May 2021

آنکھ کا بوجھل پن کہتا ہے بادل رات بہت برسا ہے

 آنکھ کا بوجھل پن کہتا ہے

بادل رات بہت برسا ہے

سورج کے واپس آنے تک

ایک دِیا جلتا رہتا ہے

دونوں جانب پھُول اُگے ہیں

لیکن رستہ پتھریلا ہے

Sunday, 18 April 2021

درد کرتا ہے سفر آنکھ کے اندر کی طرف

 درد کرتا ہے سفر آنکھ کے اندر کی طرف

اشک گرتے ہیں مگر آنکھ کے اندر کی طرف

جس سے کچھ لوگ گزرتے ہیں سرِ قریۂ جاں

کہیں کھُلتا ہے وہ در آنکھ کے اندر کی طرف

دل کے پاتال میں سو درد نظر آئیں گے

جھانک کچھ اور مگر آنکھ کے اندر کی طرف

Saturday, 2 January 2021

اسم وفا کھو جائے تو

 اسمِ وفا کھو جائے تو

دل، دنیا ہو جائے تو

آنکھ میں خواہش کا دہقان

خواب کوئی بو جائے تو

نقش ہے دل پر داغِ جنوں

وقت اگر دھو جائے تو

Friday, 1 January 2021

عشق بھی محدود ہے اب کھیل تک

 عشق بھی محدود ہے اب کھیل تک

میرا اس کا میل ہے ای میل تک

گھر کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

صحن میں مرجھا چکی ہے بیل تک

کیا کروں اپنی سپہ پر انحصار

سارے بدعنوان ہیں جرنیل تک