Showing posts with label یعقوب عامر. Show all posts
Showing posts with label یعقوب عامر. Show all posts

Wednesday, 23 March 2022

نہ پوچھو زیست فسانہ تمام ہونے تک

 نہ پوچھو زیست فسانہ تمام ہونے تک

دعاؤں تک تھی سحر اور شام رونے تک

مجھے بھی خود نہ تھا احساس اپنے ہونے کا

تِری نگاہ میں اپنا مقام کھونے تک

ہر ایک شخص ہے جب گوشت نوچنے والا

بچے گا کون یہاں نیک نام ہونے تک

Saturday, 29 January 2022

اگرچہ حال و حوادث کی حکمرانی ہے

 اگرچہ حال و حوادث کی حکمرانی ہے

ہر ایک شخص کی اپنی بھی اک کہانی ہے

میں آج کل کے تصور سے شادکام تو ہوں

یہ اور بات کہ دو پل کی زندگانی ہے

نشان راہ کے دیکھے تو یہ خیال آیا

مِرا قدم بھی کسی کے لیے نشانی ہے

Wednesday, 5 January 2022

چند گھنٹے شور و غل کی زندگی چاروں طرف

 چند گھنٹے شور و غل کی زندگی چاروں طرف

اور پھر تنہائی کی ہمسائیگی چاروں طرف

گھر میں ساری رات بے آواز ہنگامہ نہ پوچھ

میں اکیلا، نیند غائب، برہمی چاروں طرف

دیکھنے نکلا ہوں اپنا شہر جنگل کی طرح

دور تک پھیلا ہوا ہے آدمی چاروں طرف

Monday, 27 December 2021

کیا ہوا ہم سے جو دنیا بد گماں ہونے لگی

 کیا ہوا ہم سے جو دنیا بد گماں ہونے لگی

اپنی ہستی اور بھی نزدیکِ جاں ہونے لگی

دھیرے دھیرے سر میں آ کر بھر گیا برسوں کا شور

رفتہ رفتہ آرزوئے دل دھواں ہونے لگی

باغ سے آئے ہو میرا گھر بھی چل کر دیکھ لو

اب بہاروں کے دنوں میں بھی خزاں ہونے لگی

Thursday, 14 October 2021

اک خلا سا ہے جدھر دیکھو ادھر کچھ بھی نہیں

 اک خلا سا ہے جدھر دیکھو ادھر کچھ بھی نہیں

آسماں کون و مکاں دیوار و در کچھ بھی نہیں

بڑھتا جاتا ہے اندھیرا جیسے جادو ہو کوئی

کوئی پڑھ لیجے دعا لیکن اثر کچھ بھی نہیں

جسم پر ہے کون سے عفریت کا سایہ سوار

بھاگتا ہے سر سے دھڑ جیسے کہ سر کچھ بھی نہیں

Wednesday, 30 June 2021

نظروں میں کہاں اس کی وہ پہلا سا رہا میں

 نظروں میں کہاں اس کی وہ پہلا سا رہا میں

ہنستا ہوں کہ کیا سوچ کے کرتا تھا وفا میں

تُو کون ہے اے ذہن کی دستک یہ بتا دے

ہر بار کی آواز پہ دیتا ہوں صدا میں

یاد آتا ہے بچپن میں بھی استاد نے میرے

جس راہ سے روکا تھا وہی راہ چلا میں