نہ پوچھو زیست فسانہ تمام ہونے تک
دعاؤں تک تھی سحر اور شام رونے تک
مجھے بھی خود نہ تھا احساس اپنے ہونے کا
تِری نگاہ میں اپنا مقام کھونے تک
ہر ایک شخص ہے جب گوشت نوچنے والا
بچے گا کون یہاں نیک نام ہونے تک
نہ پوچھو زیست فسانہ تمام ہونے تک
دعاؤں تک تھی سحر اور شام رونے تک
مجھے بھی خود نہ تھا احساس اپنے ہونے کا
تِری نگاہ میں اپنا مقام کھونے تک
ہر ایک شخص ہے جب گوشت نوچنے والا
بچے گا کون یہاں نیک نام ہونے تک
اگرچہ حال و حوادث کی حکمرانی ہے
ہر ایک شخص کی اپنی بھی اک کہانی ہے
میں آج کل کے تصور سے شادکام تو ہوں
یہ اور بات کہ دو پل کی زندگانی ہے
نشان راہ کے دیکھے تو یہ خیال آیا
مِرا قدم بھی کسی کے لیے نشانی ہے
چند گھنٹے شور و غل کی زندگی چاروں طرف
اور پھر تنہائی کی ہمسائیگی چاروں طرف
گھر میں ساری رات بے آواز ہنگامہ نہ پوچھ
میں اکیلا، نیند غائب، برہمی چاروں طرف
دیکھنے نکلا ہوں اپنا شہر جنگل کی طرح
دور تک پھیلا ہوا ہے آدمی چاروں طرف
کیا ہوا ہم سے جو دنیا بد گماں ہونے لگی
اپنی ہستی اور بھی نزدیکِ جاں ہونے لگی
دھیرے دھیرے سر میں آ کر بھر گیا برسوں کا شور
رفتہ رفتہ آرزوئے دل دھواں ہونے لگی
باغ سے آئے ہو میرا گھر بھی چل کر دیکھ لو
اب بہاروں کے دنوں میں بھی خزاں ہونے لگی
اک خلا سا ہے جدھر دیکھو ادھر کچھ بھی نہیں
آسماں کون و مکاں دیوار و در کچھ بھی نہیں
بڑھتا جاتا ہے اندھیرا جیسے جادو ہو کوئی
کوئی پڑھ لیجے دعا لیکن اثر کچھ بھی نہیں
جسم پر ہے کون سے عفریت کا سایہ سوار
بھاگتا ہے سر سے دھڑ جیسے کہ سر کچھ بھی نہیں
نظروں میں کہاں اس کی وہ پہلا سا رہا میں
ہنستا ہوں کہ کیا سوچ کے کرتا تھا وفا میں
تُو کون ہے اے ذہن کی دستک یہ بتا دے
ہر بار کی آواز پہ دیتا ہوں صدا میں
یاد آتا ہے بچپن میں بھی استاد نے میرے
جس راہ سے روکا تھا وہی راہ چلا میں