مجھ پر بھی بے اثر تھا اُجالا کبھی کبھی
مجھ کو بھی راس آتا اندھیرا کبھی کبھی
بستی میں رہ کے جس کا تصوّر محال تھا
وہ لُطف دے گیا مجھے صحرا کبھی کبھی
سُورج بھی بدلیوں میں گرِفتار ہو گیا
ظُلمت سے بھی بُرا تھا سویرا کبھی کبھی
مجھ پر بھی بے اثر تھا اُجالا کبھی کبھی
مجھ کو بھی راس آتا اندھیرا کبھی کبھی
بستی میں رہ کے جس کا تصوّر محال تھا
وہ لُطف دے گیا مجھے صحرا کبھی کبھی
سُورج بھی بدلیوں میں گرِفتار ہو گیا
ظُلمت سے بھی بُرا تھا سویرا کبھی کبھی
کفیل سب ہیں مگر خود کفیل کوئی نہیں
سوائے اپنے کسی کا وکیل کوئی نہیں
دماغ اور زباں تو بدل بھی سکتے ہیں
وفا کی دل کے علاوہ دلیل کوئی نہیں
علاج کوئی معالج جو کر سکے تو کرے
سوائے ذہنِ بشر کے علیل کوئی نہیں
کبھی عروج کبھی وہ زوال دیتا ہے
کوئی تو ہے جو فلک پر اچھال دیتا ہے
وہی تو سنگ تراشوں کا دست پنہاں ہے
وہی تو سیپ سے موتی نکال دیتا ہے
عذاب لگنے لگے جب حیات تب بھی وہی
فشار زیست سے آ کر نکال دیتا ہے
مجھ کو شاہی نہیں توفیق فقیرانہ دے
رکھ مجھے بزم میں چاہے مجھے ویرانہ دے
بھر دے بھرنا ہے اگر عشق کا سودا سر میں
مجھ کو دینا ہے اگر جرأت رندانہ دے
آخرش حد بھی ہے ایثار کی کوئی کہ نہیں
شمع پر جان کہاں تک کوئی پروانہ دے
گھیر کر جرأت انکار تلک لے آئے
لوگ ہم کو رسن و دار تلک لے آئے
ہم کو ان پر ہی بھروسہ تھا جو اکثر ہم کو
دے کے پھولوں کی قسم خار تلک لے آئے
دل کے امراض یہ دیکھا ہے کہ درماں کیلئے
ایک بیمار کو بیمار تلک لے آئے