Showing posts with label نہال انصاری. Show all posts
Showing posts with label نہال انصاری. Show all posts

Thursday, 27 August 2026

مجھ پر بھی بے اثر تھا اجالا کبھی کبھی

 مجھ پر بھی بے اثر تھا اُجالا کبھی کبھی

مجھ کو بھی راس آتا اندھیرا کبھی کبھی

بستی میں رہ کے جس کا تصوّر محال تھا

وہ لُطف دے گیا مجھے صحرا کبھی کبھی

سُورج بھی بدلیوں میں گرِفتار ہو گیا

ظُلمت سے بھی بُرا تھا سویرا کبھی کبھی

Thursday, 12 March 2026

کفیل سب ہیں مگر خود کفیل کوئی نہیں

 کفیل سب ہیں مگر خود کفیل کوئی نہیں

سوائے اپنے کسی کا وکیل کوئی نہیں

دماغ اور زباں تو بدل بھی سکتے ہیں

وفا کی دل کے علاوہ دلیل کوئی نہیں

علاج کوئی معالج جو کر سکے تو کرے

سوائے ذہنِ بشر کے علیل کوئی نہیں

Thursday, 8 May 2025

کبھی عروج کبھی وہ زوال دیتا ہے

 کبھی عروج کبھی وہ زوال دیتا ہے

کوئی تو ہے جو فلک پر اچھال دیتا ہے

وہی تو سنگ تراشوں کا دست پنہاں ہے

وہی تو سیپ سے موتی نکال دیتا ہے

عذاب لگنے لگے جب حیات تب بھی وہی

فشار زیست سے آ کر نکال دیتا ہے

Thursday, 6 January 2022

مجھ کو شاہی نہیں توفیق فقیرانہ دے

مجھ کو شاہی نہیں توفیق فقیرانہ دے

رکھ مجھے بزم میں چاہے مجھے ویرانہ دے

بھر دے بھرنا ہے اگر عشق کا سودا سر میں

مجھ کو دینا ہے اگر جرأت رندانہ دے

آخرش حد بھی ہے ایثار کی کوئی کہ نہیں

شمع پر جان کہاں تک کوئی پروانہ دے

Wednesday, 12 May 2021

گھیر کر جرأت انکار تلک لے آئے

گھیر کر جرأت انکار تلک لے آئے

لوگ ہم کو رسن و دار تلک لے آئے

ہم کو ان پر ہی بھروسہ تھا جو اکثر ہم کو

دے کے پھولوں کی قسم خار تلک لے آئے

دل کے امراض یہ دیکھا ہے کہ درماں کیلئے

ایک بیمار کو بیمار تلک لے آئے