کفیل سب ہیں مگر خود کفیل کوئی نہیں
سوائے اپنے کسی کا وکیل کوئی نہیں
دماغ اور زباں تو بدل بھی سکتے ہیں
وفا کی دل کے علاوہ دلیل کوئی نہیں
علاج کوئی معالج جو کر سکے تو کرے
سوائے ذہنِ بشر کے علیل کوئی نہیں
یہ جانتا تھا تبھی پیاس پر بھروسا تھا
عطش سے بڑھ کے عطش کی سبیل
مسلسل ایک سفر لگ رہا ہے جاری ہے
ہماری راہ میں اب سنگِ میل کوئی نہیں
نہال! لاکھ ہم انصاف کی دُہائی دیں
عدالتیں ہیں ہزاروں، عدیل کوئی نہیں
نہال انصاری
No comments:
Post a Comment