Thursday, 12 March 2026

کفیل سب ہیں مگر خود کفیل کوئی نہیں

 کفیل سب ہیں مگر خود کفیل کوئی نہیں

سوائے اپنے کسی کا وکیل کوئی نہیں

دماغ اور زباں تو بدل بھی سکتے ہیں

وفا کی دل کے علاوہ دلیل کوئی نہیں

علاج کوئی معالج جو کر سکے تو کرے

سوائے ذہنِ بشر کے علیل کوئی نہیں

یہ جانتا تھا تبھی پیاس پر بھروسا تھا

عطش سے بڑھ کے عطش کی سبیل

مسلسل ایک سفر لگ رہا ہے جاری ہے

ہماری راہ میں اب سنگِ میل کوئی نہیں

نہال! لاکھ ہم انصاف کی دُہائی دیں

عدالتیں ہیں ہزاروں، عدیل کوئی نہیں


نہال انصاری

No comments:

Post a Comment