Tuesday, 24 March 2026

گریہ نہ ہو سکے گا ترے رہگزار میں

گریہ نہ ہو سکے گا تِرے رہگزار میں

اب جان ہی نہیں ہے ترے سوگوار میں

حامی زمین کا ہے نظر آسماں پہ ہے

کچھ تو غرور سا ہے ترے انکسار میں

مت پوچھ ہائے عمر وہ کتنی دراز تھی

ہم نے گزار دی جو ترے انتظار میں

سارے جہاں نے اس کو بتایا تھا بے وفا

پھر بھی کمی نہ آئی مرے اعتبار میں

تو تھا کے جا ملا تھا رقیبوں سے اور ہم

تجھ کو تلاشتے رہے ہر غمگسار میں

ہموار کوئی سنگ ترازو نہ کر سکا

لایا گیا جو درد ہمارا شمار میں

رو لوں ابھی کہ مہلت غم دے رہا ہے دل

کل یہ بھی پھر رہے نہ مرے اختیار میں

دو گام چل کے ساتھ مرے تو بقدر شوق

پیدا نہ کر امید دل بے قرار میں

کب سے اٹھا رہا ہے زیاں پر زیاں غریب

دل کو لگا دیا ہے یہ کس کاروبار میں

امداد کو نہ آئے وہ ان کی خطا نہیں

آواز ہی نہیں تھی ہماری پکار میں


مریم فاطمہ 

No comments:

Post a Comment