Tuesday, 31 March 2026

بجھتا شعلہ پھر بھڑکا ہے توبہ ہے

 بجھتا شعلہ پھر بھڑکا ہے توبہ ہے

بجلی بن کر یہ کڑکا ہے توبہ ہے

شہر میں سب ہیں پتے پہنے اوپر سے

موسم بھی یہ پت جھڑ کا ہے توبہ ہے

ادھر سے اس نے بیٹھی سی آواز لگائی

یہاں پہ ہر بابا پھڑکا ہے توبہ ہے

اک نے میری پوسٹ پہ دل سے دل بھیجا

اک کے دل میں دل رڑکا ہے توبہ ہے

دل میں آدھی رات کو جس کا سر اٹھتا ہے

مجھ کو خوف اسی جڑ کا ہے توبہ ہے

میرا فون جو بیگم جان کے ہاتھ لگا تو

پھر جو میرا دل دھڑکا ہے توبہ ہے

آنکھوں میں شعلے، لب انگارے ہیں

اس پر سُرخی کا تڑکا ہے توبہ ہے

میں تو ایک شریف سا بابا ہوں قنبر

میرے اندر جو لڑکا ہے توبہ ہے


قنبر عارفی

No comments:

Post a Comment