بجھتا شعلہ پھر بھڑکا ہے توبہ ہے
بجلی بن کر یہ کڑکا ہے توبہ ہے
شہر میں سب ہیں پتے پہنے اوپر سے
موسم بھی یہ پت جھڑ کا ہے توبہ ہے
ادھر سے اس نے بیٹھی سی آواز لگائی
یہاں پہ ہر بابا پھڑکا ہے توبہ ہے
اک نے میری پوسٹ پہ دل سے دل بھیجا
اک کے دل میں دل رڑکا ہے توبہ ہے
دل میں آدھی رات کو جس کا سر اٹھتا ہے
مجھ کو خوف اسی جڑ کا ہے توبہ ہے
میرا فون جو بیگم جان کے ہاتھ لگا تو
پھر جو میرا دل دھڑکا ہے توبہ ہے
آنکھوں میں شعلے، لب انگارے ہیں
اس پر سُرخی کا تڑکا ہے توبہ ہے
میں تو ایک شریف سا بابا ہوں قنبر
میرے اندر جو لڑکا ہے توبہ ہے
قنبر عارفی
No comments:
Post a Comment