Tuesday, 31 March 2026

تو اپنا حال غم دل کبھی سنا تو سہی

 میں منتظر ہوں، تُو کر ہجر کا گِلہ تو سہی

گزارے کیسے شب و روز یہ بتا تو سہی

میں ہم قدم ہی نہیں ہم سفر بھی ہوں تیری

میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گی لڑکھڑا تو سہی

پگھل نہ جاؤں تِرے جذبوں کی تپش سے میں

نگاہیں اپنی مِرے چہرے سے ہٹا تو سہی

لحاظ پچھلے تعلق کا اس نے کچھ تو کیا

مِری صدا پہ وہ پل بھر کو ہی رکا تو سہی

میں اپنے شعروں کے پیکر میں ان کو ڈھالوں گی

تُو اپنا حالِ غمِ دل کبھی سنا تو سہی

طلب نہیں نئے قول و قرار کی مجھ کو

کیا تھا مجھ سے جو وعدہ کبھی، نبھا تو سہی

میں کیسے کہہ دوں کہ الفت میں کچھ نہیں پایا

ملا نہ وہ،  نہ سہی، اس کا غم ملا تو سہی


فرزانہ پروین

No comments:

Post a Comment