Thursday, 26 March 2026

دشمن کی پہلی صف میں وہی یار بیٹھے ہیں

 کتنے یہاں جو عاقل و بیدار بیٹھے ہیں

اتنے ہی شہر میں کہاں غمخوار بیٹھے ہیں

مرشد ہمارے ہاتھ سے اک ظلم ہو گیا

محفل میں اپنی آستیں ہم جھاڑ بیٹھے ہیں

افسوس جن پہ تکیہ کیا تھا حیات کا

دشمن کی پہلی صف میں وہی یار بیٹھے ہیں

جو قتل کر کے سو گیا زعم و خمار میں

ہم بیخودی میں اس کو بھی للکار بیٹھے ہیں

بابا کے دور کے سبھی اشجار کٹ گئے

سر کو چھپائے سایۂ دیوار بیٹھے ہیں

کب کون اپنے گھر میں ہی قاقیش لٹ چلے

گھر چھیننے کو سارے ہی تیار بیٹھے ہیں


قاقیش

صبغہ راؤ قاقیش

No comments:

Post a Comment