لسانی نفرتوں کو اب مٹانا چاہیے سب کو
لگائی آگ جس نے بھی بجھانا چاہیے سب کو
سیاسی گفتگو بھی آج کل رہبر نہیں کرتے
زرا اخلاق رہبر کو سکھانا چاہیے سب کو
وطن تک بیچنے آئے جنہیں رہبر سمجھتے ہو
لٹیروں سے وطن اپنا بچانا چاہیے سب کو
پرائی جنگ میں ہرگز ہمیں شامل نہیں ہونا
ہمیں نقصان سے خود کو بچانا چاہیے سب کو
کسی نے ظلم کچھ آخر کیا ہو گا کسی پر بھی
سنو اس ظلم کا بدلا چکانا چاہیے سب کو
زرا سوچو لٹیرے چور سارے حکمراں اپنے
اٹھو تحریک حق سچ کا چلانا چاہیے سب کو
محافظ امن کے ہیں ہم یہاں پر امن ہو کیسے
سچائی جھوٹ سے پردہ اٹھانا چاہیے سب کو
گرانی اب نظر آتا نہیں کیوں حکمرانوں کو
ہمیں روٹی مکاں کپڑا دلانا چاہیے سب کو
رہے ناکام دیکھو حکمراں منشور وہ نعرے
تمہیں تو ووٹ بھی واپس کرانا چاہیے سب کو
کیوں کر گفتگو کرتے نہیں خوشبو محبت کی
محبت عام ہو خوشبو بتانا چاہیے سب کو
سنو ان نفرتوں میں فائدہ ہرگز نہیں اپنا
محبت واسطے دیپک جلانا چاہیے سب کو
خدا انصاف کرتا ہے بتاتا تو نہیں بے شک
یقیں اس بات پر باور کرانا چاہیے سب کو
کریں گے امن کی خاطر دعا مل کے سفر ہم بھی
خدا کے ہاں جبیں سر کو جھکانا چاہیے سب کو
سفر ندیم انجم زہری
No comments:
Post a Comment