عقل نے چھین لی بنیائی دل کی
ایک شاعرہ کو محبت نہیں کرنے دیتی
اب سونے کی بھی کوشش کروں تو
شناسائی خواب نہیں بُننے دیتی
مجھ کو پسند ہیں گلاب بہت مگر
زخمی پوریں کلیاں نہیں چُننے دیتی
آگہی تھام لیتی ہے آ کر دامن
وحشت ایسی کہ دیوانہ نہیں ہونے دیتی
عقل تو عشق کی متضاد صاحب
شناسائی دل کی آواز نہیں سننے دیتی
اے عقل! کمبخت برا ہو تیرا
کوچۂ جاناں میں بھی نہیں رُلنے دیتی
اس لیے رِستا ہے لہو میرے زخموں سے
یادیں تیری زخم نہیں سِلنے دیتی
کیسے کہوں کیا ہے محبت لوگو
دل اور دماغ کو نہیں مِلنے دیتی
نازیہ رشید تارڑ
No comments:
Post a Comment