جو اپنے سائے سے ہر لمحہ خوف کھاتے ہیں
نکل کے دھوپ میں وہ لوگ کیسے آتے ہیں
لہو میں دیکھ کے تر سبز موسموں کا لباس
برہنہ برگِ شجر قہقہہ لگاتے ہیں
ثبوت دیتے ہیں وہ اپنی اعلیٰ ظرفی کا
ہر ایک طنز کو جو ہنس کے ٹال جاتے ہیں
جنھیں ہے علم کہ ہر شخص آنکھ والا ہے
وہ پتھروں کو نمائش میں کیوں سجاتے ہیں
میں جن کے شانہ بشانہ لڑا تھا دشمن سے
وہ میرے نام کو تاریخ سے مٹاتے ہیں
جو اپنی ذات میں ٹوٹے ہوئے ہیں صدیوں سے
نئے لطیفوں سے احباب کو ہنساتے ہیں
نقیبِ صبح کے خوں کا حساب لینے کو
حقیر ذرے بھی اب اپنا سر اٹھاتے ہیں
وہ پیڑ جن کی جڑوں میں تری نہیں ہوتی
جوان ہونے سے پہلے ہی سوکھ جاتے ہیں
اسی فضا میں چلو پھر سے گھربنائیں ہم
جہاں پرندوں کے کچھ غول پائے جاتے ہیں
ترے سخن سے جنھیں روشنی ملی جاوید
وہ آفتاب کو بھی آئینہ دکھاتے ہیں
مشتاق جاوید
No comments:
Post a Comment