Saturday, 28 March 2026

گھر جلا میرا تو لوگوں نے تماشا دیکھا

 گھر جلا میرا تو لوگوں نے تماشا دیکھا

یا خدا! میں نے تِری دنیا میں یہ کیا دیکھا

یہ جہاں خواب میں تھا وادئ رنگ و نکہت

جب کھلی آنکھ، دہکتا ہوا صحرا دیکھا

بن گئی پانو کی زنجیر غمِ دہر کی دھوپ

دور ہی سے تِری دیوار کا سایہ دیکھا

مل گئے جیسے ہمیں انجم و ماہ و خورشید

تِری دلداری کا اندازِ دل آرا دیکھا

دور تو ہوتا نگاہوں سے تو کیسے ہوتا

ہم نے ہر حسین میں ترا چہرہ دیکھا


محمود الحسن کنجاہی

No comments:

Post a Comment