گھر جلا میرا تو لوگوں نے تماشا دیکھا
یا خدا! میں نے تِری دنیا میں یہ کیا دیکھا
یہ جہاں خواب میں تھا وادئ رنگ و نکہت
جب کھلی آنکھ، دہکتا ہوا صحرا دیکھا
بن گئی پانو کی زنجیر غمِ دہر کی دھوپ
دور ہی سے تِری دیوار کا سایہ دیکھا
مل گئے جیسے ہمیں انجم و ماہ و خورشید
تِری دلداری کا اندازِ دل آرا دیکھا
دور تو ہوتا نگاہوں سے تو کیسے ہوتا
ہم نے ہر حسین میں ترا چہرہ دیکھا
محمود الحسن کنجاہی
No comments:
Post a Comment