Wednesday, 25 March 2026

سنبھل کر شراب محبت لٹائیں

 سنبھل کر شراب محبت لٹائیں

وہ مخمور آنکھیں قیامت نہ ڈھائیں

نہ لائیں گی کیا زلفِ جاناں کی نکہت

نہ آئیں گی کیا روح پرور ہوائیں

خدا جانے قسمت میں ہیں یا نہیں ہیں

دیارِ محبت کی دل کش فضائیں

ہر اک سمت گرتی ہے بجلی پہ بجلی

الہیٰ! کہاں تک نشیمن بنائیں

بساطِ محبت پہ بازی لگی ہے

یہ جی چاہتا ہے کہ دل ہار جائیں

ستم کی نوازش کا بھی شکریہ ہے

تشکر میں دیں گے ہمیشہ دعائیں

بہت دور ساحل سے کشتی ہے اپنی

تمہارے سہارے نہ کیوں ڈوب جائیں

چلو چل کے بزمِ بہاراں میں نیر

کوئی نغمۂ دل نشیں گنگنائیں


مصطفیٰ حسین نیر

No comments:

Post a Comment