سنبھل کر شراب محبت لٹائیں
وہ مخمور آنکھیں قیامت نہ ڈھائیں
نہ لائیں گی کیا زلفِ جاناں کی نکہت
نہ آئیں گی کیا روح پرور ہوائیں
خدا جانے قسمت میں ہیں یا نہیں ہیں
دیارِ محبت کی دل کش فضائیں
ہر اک سمت گرتی ہے بجلی پہ بجلی
الہیٰ! کہاں تک نشیمن بنائیں
بساطِ محبت پہ بازی لگی ہے
یہ جی چاہتا ہے کہ دل ہار جائیں
ستم کی نوازش کا بھی شکریہ ہے
تشکر میں دیں گے ہمیشہ دعائیں
بہت دور ساحل سے کشتی ہے اپنی
تمہارے سہارے نہ کیوں ڈوب جائیں
چلو چل کے بزمِ بہاراں میں نیر
کوئی نغمۂ دل نشیں گنگنائیں
مصطفیٰ حسین نیر
No comments:
Post a Comment