Showing posts with label آصف دسنوی. Show all posts
Showing posts with label آصف دسنوی. Show all posts

Friday, 2 June 2023

یہ جستجو میں نہ جانے کس کی چراغ آنکھوں کے جل رہے ہیں

 یہ جستجو میں نہ جانے کس کی چراغ آنکھوں کے جل رہے ہیں

کہ قید ہستی سے ہم نکل کر افق کی راہوں پہ چل رہے ہیں

یہ وقت جانے عذاب کیسے شدید مجھ پر اتارتا ہے

یہ چاند تارے حسین منظر نظر میں جیسے پگھل رہے ہیں

کہیں امیدوں کی یہ قناتیں جو ٹوٹتیں تو غضب ہی ہوتا

مِرے عزائم مِرے ارادے بلندیوں پر سنبھل رہے ہیں

Monday, 22 May 2023

یہ سلوٹ وقت کے ماتھے پہ کچھ اچھا نہیں لگتا

 یہ سلوٹ وقت کے ماتھے پہ کچھ اچھا نہیں لگتا

کہ چہرہ آئینے میں دیر تک اپنا نہیں لگتا

تِری یادوں کی خوشبو یوں ہمیشہ ساتھ رہتی

میں تنہائی میں گھر کر بھی کبھی تنہا نہیں لگتا

نہ سنگریزے، نہ خارِ گل، نہ تلوے خونچکاں اپنے

نہ جانے کیوں تِرے کوچے کا یہ رستہ نہیں لگتا

Monday, 15 May 2023

مرے ہاتھوں کی تحریروں میں رکھتا

 مرے ہاتھوں کی تحریروں میں رکھتا

وہ اپنا خواب تعبیروں میں رکھتا

زباں میری سمجھتا کیا زمانہ

میں اپنی سوچ تصویروں میں رکھتا

چلا کرتا مقدر ساتھ میرے

دعا شامل جو تعبیروں میں رکھتا

Wednesday, 3 May 2023

زندگی کے اس سفر میں حادثہ کچھ بھی نہیں

 زندگی کے اس سفر میں حادثہ کچھ بھی نہیں

ٹوٹ کر بکھرے تھے کتنے پر ہوا کچھ بھی نہیں

ہو گیا نم خود بخود ہی سادہ لمحوں کا ورق

تجھ کو لکھنا تھا بہت کچھ پر لکھا کچھ بھی نہیں

کون مجھ میں جھیلتا ہے خامشی سے کرب جاں

کوئی اندر ٹوٹتا ہے پر صدا کچھ بھی نہیں

Sunday, 30 April 2023

قربتوں کے سارے لمحے دوریوں میں کھو گئے

 قربتوں کے سارے لمحے دوریوں میں کھو گئے

خواب کچھ آنکھوں میں لیکن جاتے جاتے بو گئے

یاد جب آئی تِری تو منتظر پہروں رہے

اپنی تنہائی سے آخر پھر لپٹ کر سو گئے

عہدِ طفلی! نوجوانی کھو گئی کس موڑ پر

حادثے ہونے تھے جتنے وہ تو آخر ہو گئے

Wednesday, 26 October 2022

عجب تضاد ہے سچائیوں سے آگے بھی

 عجب تضاد ہے سچائیوں سے آگے بھی

مِرا وجود ہے پرچھائیوں سے آگے بھی

کسی کا حسن فریب‌ِ نشاط دیتا ہے

نگارِ وقت کی انگڑائیوں سے آگے بھی

چلا ہے تلخ حقائق کا کارواں جیسے

مِرے یقین کی بینائیوں سے آگے بھی