یہ جستجو میں نہ جانے کس کی چراغ آنکھوں کے جل رہے ہیں
کہ قید ہستی سے ہم نکل کر افق کی راہوں پہ چل رہے ہیں
یہ وقت جانے عذاب کیسے شدید مجھ پر اتارتا ہے
یہ چاند تارے حسین منظر نظر میں جیسے پگھل رہے ہیں
کہیں امیدوں کی یہ قناتیں جو ٹوٹتیں تو غضب ہی ہوتا
مِرے عزائم مِرے ارادے بلندیوں پر سنبھل رہے ہیں