دھوپ کا نام جو ہے سایہ تو سایہ ہی سہی
آپ کہتے ہیں اگر ایسا تو ایسا ہی سہی
ہم بھی جینے کا محبت میں تماشہ کر لیں
زندگی جو ہے تماشہ تو تماشہ ہی سہی
کیوں نہ یہ مرتے ہوئے لمحے غنیمت جانوں
لمحوں کا ایسا ہی ہے لاشہ تو لاشہ ہی سہی
دھوپ کا نام جو ہے سایہ تو سایہ ہی سہی
آپ کہتے ہیں اگر ایسا تو ایسا ہی سہی
ہم بھی جینے کا محبت میں تماشہ کر لیں
زندگی جو ہے تماشہ تو تماشہ ہی سہی
کیوں نہ یہ مرتے ہوئے لمحے غنیمت جانوں
لمحوں کا ایسا ہی ہے لاشہ تو لاشہ ہی سہی
عورت ذات
رات ہے یا سمندر کوئی
کیوں اس میں ڈوب رہی ہوں
تیری دید سے نہیں ڈرتی
مگر جدائی سے ڈرتی ہوں
وقت کا ظلم سہہ نہیں سکتی
ذرا ذرا بکھر جاتی ہوں
راکھ ہونے کی گھڑی ہو جیسے
آگ سینے میں لگی ہو جیسے
گھر کے آنگن میں دھواں ہے ایسا
میری دنیا ہی جلی ہو جیسے
بند مٹھی کو ہیں تکتے ہر پل
اپنی قسمت میں یہی ہو جیسے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے اعلیٰ و ارفع مقام محمدﷺ
دل و جان صدقے بنام محمدﷺ
مزہ آئے گا حشر میں مے کشی کا
ملے گا جو پینے کو جام محمدﷺ
رہو چین سے امن و محبت سے
ہے لازم ہمیں احترام محمدﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
التجا ہے میری بس یہ رب سے
حمد منسوب ہو میرے رب سے
ہو میسر مجھے بھی یہ سلیقہ
نام لوں میں تیرا پر ادب سے
ہو ازل سے جو تیری ثنا خواں
کیا غرض ہو اسے روز و شب سے
حقیقت اس کے رونے کی برابر دیکھتے ہیں ہم
اتر کر اس لیے خوابوں کے اندر دیکھتے ہیں ہم
وہ کہتا ہے کہ میرے ذکر سے وہ خود مہکتا ہے
اسی خاطر تو سانسوں میں اُتر کر دیکھتے ہیں ہم
وہ کہتا ہے اتر جاتے ہیں بن کر چاند ہم دل میں
سنو بن کر چاندنی کا پیکر دیکھتے ہیں ہم