Showing posts with label فرخندہ خندہ. Show all posts
Showing posts with label فرخندہ خندہ. Show all posts

Sunday, 4 January 2026

دھوپ کا نام جو ہے سایہ تو سایہ ہی سہی

 دھوپ کا نام جو ہے سایہ تو سایہ ہی سہی

آپ کہتے ہیں اگر ایسا تو ایسا ہی سہی

ہم بھی جینے کا محبت میں تماشہ کر لیں

زندگی جو ہے تماشہ تو تماشہ ہی سہی

کیوں نہ یہ مرتے ہوئے لمحے غنیمت جانوں

لمحوں کا ایسا ہی ہے لاشہ تو لاشہ ہی سہی

Monday, 25 August 2025

رات ہے یا سمندر کوئی کیوں اس میں ڈوب رہی ہوں

 عورت ذات


رات ہے یا سمندر کوئی

کیوں اس میں ڈوب رہی ہوں

تیری دید سے نہیں ڈرتی

مگر جدائی سے ڈرتی ہوں

وقت کا ظلم سہہ نہیں سکتی

ذرا ذرا بکھر جاتی ہوں

Saturday, 5 July 2025

راکھ ہونے کی گھڑی ہو جیسے

 راکھ ہونے کی گھڑی ہو جیسے

آگ سینے میں لگی ہو جیسے

گھر کے آنگن میں دھواں ہے ایسا

میری دنیا ہی جلی ہو جیسے

بند مٹھی کو ہیں تکتے ہر پل

اپنی قسمت میں یہی ہو جیسے

Friday, 20 June 2025

ہے اعلیٰ و ارفع مقام محمد

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے اعلیٰ و ارفع مقام محمدﷺ

دل و جان صدقے بنام محمدﷺ

مزہ آئے گا حشر میں مے کشی کا

ملے گا جو پینے کو جام محمدﷺ

رہو چین سے امن و محبت سے

ہے لازم ہمیں احترام محمدﷺ

Monday, 16 June 2025

التجا ہے میری بس یہ رب سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


التجا ہے میری بس یہ رب سے

حمد منسوب ہو میرے رب سے

ہو میسر مجھے بھی یہ سلیقہ

نام لوں میں تیرا پر ادب سے

ہو ازل سے جو تیری ثنا خواں

کیا غرض ہو اسے روز و شب سے

Sunday, 21 February 2021

حقیقت اس کے رونے کی برابر دیکھتے ہیں ہم

 حقیقت اس کے رونے کی برابر دیکھتے ہیں ہم

اتر کر اس لیے خوابوں کے اندر دیکھتے ہیں ہم

وہ کہتا ہے کہ میرے ذکر سے وہ خود مہکتا ہے

اسی خاطر تو سانسوں میں اُتر کر دیکھتے ہیں ہم

وہ کہتا ہے اتر جاتے ہیں بن کر چاند ہم دل میں

سنو بن کر چاندنی کا پیکر دیکھتے ہیں ہم