گلے میں طوق کو زنجیر سمجھنا چھوڑو
ہر محرومی کو تقدیر سمجھنا چھوڑو
تم اگر حق بھی نہ لے پاؤ تو پھر بہتر ہے
ہاتھ میں لوہے کو شمشیر سمجھنا چھوڑو
جو سمجھتے ہیں کہ معراج فقط مسند ہے
ایسے لوگوں کو بھی تم پیر سمجھنا چھوڑو
گلے میں طوق کو زنجیر سمجھنا چھوڑو
ہر محرومی کو تقدیر سمجھنا چھوڑو
تم اگر حق بھی نہ لے پاؤ تو پھر بہتر ہے
ہاتھ میں لوہے کو شمشیر سمجھنا چھوڑو
جو سمجھتے ہیں کہ معراج فقط مسند ہے
ایسے لوگوں کو بھی تم پیر سمجھنا چھوڑو
کرتے بھی اگر ہم تو بے کار تھی توبہ
ٹُوٹے طوافِ حُسن پہ ہر بار ہی توبہ
کیونکر جمالِ یار کو ہم ہی نہ سراہتے
مخمُور اداؤں پہ خود سرشار تھی توبہ
ہو سکتا ہے اُن پہ ہو کوئی خاص نوازش
اپنے تو کام آئی نہ اِک بار بھی توبہ
ہم میں گر تُو رہے چاہے رہ کے نہاں
اپنا وعدہ ہے ہم بھی رہیں گے جواں
تم ملاتے ہو نظریں جھُکا کے جو یوں
کرتی ہے پھر وہاں خاموشی گُفتگو
دل کی حالت بتا کر تمہیں جانے جاں
کیا بتائیں جو ملتا ہے کر کے بیاں
کبھی تو کوئی لکھے گا اُن پہ
جو تیرِ نا حق چلا رہے ہیں
ضرور ہو گا عیاں وہ اِک دن
وہ سچ جو ہم سے چُھپا رہے ہیں
ہے جن کے ہاتھوں میں رمزِ طاقت
نا جانے کیوں ہیں وہ عقلِ ساکت