Showing posts with label محتشم رضا. Show all posts
Showing posts with label محتشم رضا. Show all posts

Wednesday, 11 June 2025

گلے میں طوق کو زنجیر سمجھنا چھوڑو

 گلے میں طوق کو زنجیر سمجھنا چھوڑو

ہر محرومی کو تقدیر سمجھنا چھوڑو

تم اگر حق بھی نہ لے پاؤ تو پھر بہتر ہے

ہاتھ میں لوہے کو شمشیر سمجھنا چھوڑو

جو سمجھتے ہیں کہ معراج فقط مسند ہے

ایسے لوگوں کو بھی تم پیر سمجھنا چھوڑو

Thursday, 21 November 2024

کرتے بھی اگر ہم تو بیکار تھی توبہ

 کرتے بھی اگر ہم تو بے کار تھی توبہ

ٹُوٹے طوافِ حُسن پہ ہر بار ہی توبہ

کیونکر جمالِ یار کو ہم ہی نہ سراہتے

مخمُور اداؤں پہ خود سرشار تھی توبہ

ہو سکتا ہے اُن پہ ہو کوئی خاص نوازش

اپنے تو کام آئی نہ اِک بار بھی توبہ

Sunday, 13 October 2024

ہم میں گر تو رہے چاہے رہ کے نہاں

 ہم میں گر تُو رہے چاہے رہ کے نہاں

اپنا وعدہ ہے ہم بھی رہیں گے جواں

تم ملاتے ہو نظریں جھُکا کے جو یوں

کرتی ہے پھر وہاں خاموشی گُفتگو

دل کی حالت بتا کر تمہیں جانے جاں

کیا بتائیں جو ملتا ہے کر کے بیاں

Friday, 11 October 2024

کبھی تو کوئی لکھے گا ان پہ جو تیر نا حق چلا رہے ہیں

 کبھی تو کوئی لکھے گا اُن پہ 

جو تیرِ نا حق چلا رہے ہیں 

ضرور ہو گا عیاں وہ اِک دن 

وہ سچ جو ہم سے چُھپا رہے ہیں

ہے جن کے ہاتھوں میں رمزِ طاقت 

نا جانے کیوں ہیں وہ عقلِ ساکت