Saturday, 13 June 2026

روشن تھی دل کی ہر کلی اور چار سو سفید تھے

 دُنیائے حُسن و عشق کے سب رنگ و بُو سفید تھے

اس مے کدے کے بام و در، جام و سبُو سفید تھے

ہم نے تو اپنے خُون سے لکھی وفا کی داستاں

ان کو سمجھ نہ آ سکی جن کے لہُو سفید تھے

آنکھیں جو محوِ خواب تھیں تیرے سیاہ پوش کی

شب تھی، کہ تیرے شہر کے سب کُوبُکو سفید تھے

یوں تو مِری نگاہ نے دیکھے بڑے حسیں مگر

کچھ کو ذرا غرُور تھا، کچھ کے لہُو سفید تھے

اُٹھی ہے تیرے سامنے میّت سیاہ پوش سی

جس کا کفن سفید ہے، اس کے رفُو سفید تھے

رکھا ہے اک جہان نے دھوکے میں تجھ کو اے نظر

جو پیش رُو سیاہ تھے،۔ وہ روبرُو سفید تھے

حمزہ خیالِ یار کے لمحوں  میں ایک کیف تھا 

روشن تھی دل کی ہر کلی اور چار سُو سفید تھے


حمزہ علی شاہ

No comments:

Post a Comment