Thursday, 25 June 2026

ہے میرے گرد یقیناً کہیں حصار سا کچھ

 ہے میرے گِرد یقیناً کہیں حِصار سا کچھ

اور اس کو بھی ہے دُعاؤں پہ اعتبار سا کچھ

کہیں تو گوشۂ دل میں اُمید باقی ہے

کہیں ہے اس کی نظر میں بھی انتظار سا کچھ

کہا جب اس نے کے آنکھوں پہ اعتبار نہ کر

تو میں نے مانگ لیا دل پہ اختیار سا کچھ

یہ سارا کھیل فقط گردشوں کا ہے آہنگ

فضول ڈھونڈ رہے ہو یہاں قرار سا کچھ

جو لے کے آیا تھا سیلاب خُوشبوؤں کا کبھی

وہ بھر گیا ہے مِری آنکھ میں غُبار سا کچھ

اُتر چکا ہے بدن سے تمام نشۂ وصل

چڑھا چڑھا سا طبیعت پہ ہے خُمار سا کچھ

سُنا ہے یہ بھی بزرگی کی اک علامت ہے

سو میں بھی ہونے لگا تاج خاکسار سا کچھ


حسین تاج رضوی

No comments:

Post a Comment