محبت کے سفر میں ایک ایسا بھی مقام آیا
سہارے کے لیے لب پر تمہارے میرا نام آیا
ہوا ساکت فضا مبہوت اور لب بند غنچوں کے
چمن میں کون ہنگام سحر نازک خرام آیا
پناہیں ڈھونڈ لیں خورشید نے کہسار کے پیچھے
جو دیکھا شام کو اک ماہ وش بالائے بام آیا
سنا ہے مے کدہ اپنا ہے اب ساقی بھی اپنا ہے
مگر رندوں کے حصہ میں نہ مے آئی نہ جام آیا
یہ ان کی بھول تھی یا جذبۂ دل کا کرشمہ تھا
میں حیراں ہوں مرا ان کی زباں پر کیسے نام آیا
ہوا کا ایک جھونکا اتفاقاً چل گیا شاید
تو دیوانوں نے سمجھا موسم گل کا پیام آیا
برق آشیانوی
موسیٰ کلیم
No comments:
Post a Comment