Monday, 29 June 2026

محبت کے سفر میں ایک ایسا بھی مقام آیا

 محبت کے سفر میں ایک ایسا بھی مقام آیا

سہارے کے لیے لب پر تمہارے میرا نام آیا

ہوا ساکت فضا مبہوت اور لب بند غنچوں کے

چمن میں کون ہنگام سحر نازک خرام آیا

پناہیں ڈھونڈ لیں خورشید نے کہسار کے پیچھے

جو دیکھا شام کو اک ماہ وش بالائے بام آیا

سنا ہے مے کدہ اپنا ہے اب ساقی بھی اپنا ہے

مگر رندوں کے حصہ میں نہ مے آئی نہ جام آیا

یہ ان کی بھول تھی یا جذبۂ دل کا کرشمہ تھا

میں حیراں ہوں مرا ان کی زباں پر کیسے نام آیا

ہوا کا ایک جھونکا اتفاقاً چل گیا شاید

تو دیوانوں نے سمجھا موسم گل کا پیام آیا


برق آشیانوی

موسیٰ کلیم

No comments:

Post a Comment