ہم لوگ کسی دل میں اتر کیوں نہیں جاتے
دھرتی پہ ہیں گر بوجھ تو مر کیوں نہیں جاتے
ہر گام پہ ملتی ہیں تجھے منزلیں کیسے
بے کار تمہارے یہ سفر کیوں جاتے
رہتی ہے انھیں دیکھ کے پھر دید کی خواہش
دل حسن کے دیدار سے بھر کیوں نہیں جاتے
کاہے کو گزرتی نہیں یہ ہجر کی گھڑیاں
اور وصل کے اوقات ٹھہر کیوں نہیں جاتے
تم عشق میں کیوں سود و زیاں سوچ رہے ہو
مجنوں ہو تو پھر جاں سے گزر کیوں نہیں جاتے
آتے ہو سدا لوٹ کے بے درد کے در پر
جو روز بلاتا ہے ادھر کیوں نہیں جاتے
پھر شہر کی ویران شبیں پوچھ رہی ہیں
بہزاد کبھی لوٹ کے گھر کیوں نہیں جاتے
بہزاد جاذب
No comments:
Post a Comment