Friday, 26 June 2026

ہم لوگ کسی دل میں اتر کیوں نہیں جاتے

 ہم لوگ کسی دل میں اتر کیوں نہیں جاتے

دھرتی پہ ہیں گر بوجھ تو مر کیوں نہیں جاتے

ہر گام پہ ملتی ہیں تجھے منزلیں کیسے

بے کار تمہارے یہ سفر کیوں جاتے

رہتی ہے انھیں دیکھ کے پھر دید کی خواہش

دل حسن کے دیدار سے بھر کیوں نہیں جاتے

کاہے کو گزرتی نہیں یہ ہجر کی گھڑیاں

اور وصل کے اوقات ٹھہر کیوں نہیں جاتے

تم عشق میں کیوں سود و زیاں سوچ رہے ہو

مجنوں ہو تو پھر جاں سے گزر کیوں نہیں جاتے

آتے ہو سدا لوٹ کے بے درد کے در پر

جو روز بلاتا ہے ادھر کیوں نہیں جاتے

پھر شہر کی ویران شبیں پوچھ رہی ہیں

بہزاد کبھی لوٹ کے گھر کیوں نہیں جاتے


بہزاد جاذب

No comments:

Post a Comment