Monday, 29 June 2026

بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

 بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

منتظر عُشّاق کو چہرہ دِکھانا چاہیے

باوجود اس عشق میں کیا کیا ستم ہم نےسہے

پھر بھی پاگل دل مِرا کہ دل لگانا چاہیے

ہم سرِ محفل سے اب تک شعر ہی کہتے رہے

آپ کو بھی کچھ نہ کچھ اب تو سنانا چاہیے

تھک چکا ہے دل مسلسل مشکلوں سے اے خدا

کم سے کم اب سو کے ہی آرام پانا چاہیے

بارہا غرضِ ریا سو سو عمل اچھے کیے

صدقِ دل سے کیا، کیا ہے جو دِکھانا چاہیے

جو کسی مشکل میں حامیؔ آپ کی ہمت بنے

آپ کو بھی اس طرح کا اک دیوانہ چاہیے

حامیؔ ہمّت ہارنا مومن کا شیوہ ہی نہیں

آزمائش کی گھڑی میں مسکرانا چاہیے


سردار حماد منیر

No comments:

Post a Comment