رُخِ حیرانئ منظر ہی اُسے یاد نہ تھا
میرے آئینے کا جوہر ہی اسے یاد نہ تھا
یاد تھیں اس کو سب آرام گہیں دُنیا کی
مُجھ شبستان کا بستر ہی اسے یاد نہ تھا
میں نے دِکھلائے اسے نقش و نگارِ ہستی
اپنی معدومی کا پیکر ہی اسے یاد نہ تھا
آخرِ کار وہی سطحِ مسطّح تھی وہ جھیل
میرا پھینکا ہوا پتھر ہی اسے یاد نہ تھا
میری حالت کا مداوا ہی نہیں تھا کوئی
اپنے اعمال کا دفتر ہی اسے یاد نہ تھا
حامد عزیز
No comments:
Post a Comment