ہنستے ہو تم چُھپا کر زمانے کی تلخیاں
دیکھی ہیں آزما کے زمانے کی تلخیاں
تیری خموشی پھر تِری فطرت ہے کیوں بنی
خود میں سما سما کر زمانے کی تلخیاں
دیمک کے جیسے چاٹتی جاتی ہے یہ تجھے
سینے میں گھر بنا کر زمانے کی تلخیاں
یہ لوگ بھی عجیب ہیں دیتے کبھی دلاسے
دیتے کبھی سجا کر زمانے کی تلخیاں
جب کُھل کے مُسکراؤ پوچھیں گے سبھی آ کر
ملتا ہے کیا چُھپا کر زمانے کی تلخیاں
کچھ راز تھے زباں پہ چُھپانا پڑا جنہیں
نظریں جُھکا جُھکا کر زمانے کی تلخیاں
انعم بسائیں پھر سے حسیں پیارا اک جہاں
دل سے سبھی مِٹا کر زمانے کی تلخیاں
انعم نقوی
No comments:
Post a Comment