Showing posts with label ظل ہما. Show all posts
Showing posts with label ظل ہما. Show all posts

Friday, 21 July 2023

کنارے آنکھ کے دریا ٹھہر گیا جیسے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


کنارے آنکھ کے دریا ٹھہر گیا جیسے

بچھائے جاتی ہو فرشِ عزا ہوا جیسے

تپش سے زرد ہوا ایسے روح کا موسم

لگا کے چاند نئے سال کا چڑھا جیسے

بُجھی بُجھی سی طبیعت بھرا بھرا سا ہے دل

کہ ہو رہی ہو محرّم کی ابتداء جیسے

Thursday, 21 April 2022

درد پھر سے نیا نہیں کرنا

 درد پھر سے نیا نہیں کرنا

زخم پھر سے ہرا نہیں کرنا

فیصلہ کر لیا ہے کچھ بھی ہو

اب تِرا سامنا نہیں کرنا

اس کی ضد ہے کہ اس کو یاد کروں

اس سے کہہ دو کہ جا نہیں کرنا

Friday, 25 March 2022

ہجر کا رزق ہوئے جاتے ہیں زینت بھی زیبائی بھی

 ہجر کا رزق ہوئے جاتے ہیں زینت بھی، زیبائی بھی

خاک میں عشق ملا دیتا ہے صورت بھی، رعنائی بھی

چوٹ جگر پر کھا کے ہی اس زخم کا کچھ اندازہ ہو

پھر تجھ کو معلوم پڑے گی شدّت بھی، گہرائی بھی

حرف گری کے سر پر خواب فروشی کا الزام تو ہے

نام کے ساتھ ملا کرتی ہے شہرت بھی، رسوائی بھی

Thursday, 27 January 2022

نہ ملے پھر سے جو پابند انا ہو کر ملے

 نہ ملے پھر سے جو پابندِ انا ہو کر ملے

اس سے کہنا اب جنوں سے آشنا ہو کر ملے

جب نکل آؤں محبت کی حدوں سے دور میں

یاد کا جنگل ہمیشہ سے گھنا ہو کر ملے

اس سے بہتر ہے کہ دُوری کی اذیت کاٹ لیں

رنج گر اک دوسرے کا سامنا ہو کر ملے

Tuesday, 27 July 2021

بھاری ہے غم کی رات کوئی اور بات کر

 بھاری ہے غم کی رات کوئی اور بات کر

سن اے شکستِ ذات! کوئی اور بات کر

مجھ سے تُو پوچھتا ہے مِری زندگی کا حال

اے گم شدہ حیات! کوئی اور بات کر

ملتا نہیں ہے جو بھی بچھڑتا ہے ایک بار

چل، شہرِ ممکنات! کوئی اور بات کر

Sunday, 25 July 2021

شہر الفت پہ مضافات پہ لعنت بھیجی

 شہرِ الفت پہ، مضافات پہ لعنت بھیجی

آج اس خطۂ کم ذات پہ لعنت بھیجی

عشق جب جب بھی ندامت کی گلی سے گزرا

گریۂ ہجر کی اوقات پہ لعنت بھیجی

مسلکِ دل میں بھی صدقہ نہیں لیتے سید

Tuesday, 20 July 2021

قرار جان کیا سوز جگر کے ہوتے ہوئے

 قرارِ جان کیا سوزِ جگر کے ہوتے ہوئے

سلگ رہا ہے یہ دل چشمِ تر کے ہوتے ہوئے

شبِ خلش تجھے آخر تمام کیسے کروں

اندھیرا بڑھنے لگا ہے سحر کے ہوتے ہوئے

دعا کرو کہ دعاؤں کی اب ضرورت ہے

دوا کا نام نہ لو چارہ گر کے ہوتے ہوئے

Monday, 19 July 2021

بنا کے دیں کو فقط یرغمال رکھا ہے

 بنا کے دِیں کو فقط یرغمال رکھا ہے

جہاں کو شیخ نے چکر میں ڈال رکھا ہے

کسی کی یاد کی اس رائیگاں مسافت نے

دلِ تباہ کو کر کے نڈھال رکھا ہے

یہ اس خدا کی ہے قدرت، یہ بس خدا کا ہے کام

”اکیلے دونوں جہاں کو سنبھال رکھا ہے“

Sunday, 18 July 2021

قطرہ قطرہ یہاں اترتی شام

 قطرہ قطرہ یہاں اترتی شام

درد کیوں دل میں جائے بھرتی شام

گر نہ پیتی تمہاری یاد کا زہر

روز جیتی نہ روز مرتی شام

پھر جنازے پہ سرخ سورج کے

بال بکھرائے بین کرتی شام

Thursday, 22 April 2021

جنون ہے تو اسے بے قرار رہنے دے

 جنون ہے تو اسے بے قرار رہنے دے

اگر ہے عشق تو بے اختیار رہنے دے

ابھی نگاہ کے آگے غبار رہنے دے

ہوائے دشت مجھے انتظار رہنے دے

جو حشر ٹوٹ چکا اس کا کب تلک ماتم

نہ سن صدائے دلِ تار تار رہنے دے

Saturday, 13 February 2021

رقصاں ہیں بگولے جو تہہ آب نہ توڑے

 رقصاں ہیں بگولے جو تہہِ آب، نہ توڑے

دریا کا ارادہ ہے کہ گرداب نہ توڑے

تُو دشتِ ملامت کی مسافت کو چلا ہے

اے کاش محبت تِرے اعصاب نہ توڑے

گرنے ہی سے آتا ہے سنبھلنے کا ہنر بھی

آنکھیں نہیں کھُلتیں جو کوئی خواب نہ توڑے