عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
کنارے آنکھ کے دریا ٹھہر گیا جیسے
بچھائے جاتی ہو فرشِ عزا ہوا جیسے
تپش سے زرد ہوا ایسے روح کا موسم
لگا کے چاند نئے سال کا چڑھا جیسے
بُجھی بُجھی سی طبیعت بھرا بھرا سا ہے دل
کہ ہو رہی ہو محرّم کی ابتداء جیسے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
کنارے آنکھ کے دریا ٹھہر گیا جیسے
بچھائے جاتی ہو فرشِ عزا ہوا جیسے
تپش سے زرد ہوا ایسے روح کا موسم
لگا کے چاند نئے سال کا چڑھا جیسے
بُجھی بُجھی سی طبیعت بھرا بھرا سا ہے دل
کہ ہو رہی ہو محرّم کی ابتداء جیسے
درد پھر سے نیا نہیں کرنا
زخم پھر سے ہرا نہیں کرنا
فیصلہ کر لیا ہے کچھ بھی ہو
اب تِرا سامنا نہیں کرنا
اس کی ضد ہے کہ اس کو یاد کروں
اس سے کہہ دو کہ جا نہیں کرنا
ہجر کا رزق ہوئے جاتے ہیں زینت بھی، زیبائی بھی
خاک میں عشق ملا دیتا ہے صورت بھی، رعنائی بھی
چوٹ جگر پر کھا کے ہی اس زخم کا کچھ اندازہ ہو
پھر تجھ کو معلوم پڑے گی شدّت بھی، گہرائی بھی
حرف گری کے سر پر خواب فروشی کا الزام تو ہے
نام کے ساتھ ملا کرتی ہے شہرت بھی، رسوائی بھی
نہ ملے پھر سے جو پابندِ انا ہو کر ملے
اس سے کہنا اب جنوں سے آشنا ہو کر ملے
جب نکل آؤں محبت کی حدوں سے دور میں
یاد کا جنگل ہمیشہ سے گھنا ہو کر ملے
اس سے بہتر ہے کہ دُوری کی اذیت کاٹ لیں
رنج گر اک دوسرے کا سامنا ہو کر ملے
بھاری ہے غم کی رات کوئی اور بات کر
سن اے شکستِ ذات! کوئی اور بات کر
مجھ سے تُو پوچھتا ہے مِری زندگی کا حال
اے گم شدہ حیات! کوئی اور بات کر
ملتا نہیں ہے جو بھی بچھڑتا ہے ایک بار
چل، شہرِ ممکنات! کوئی اور بات کر
شہرِ الفت پہ، مضافات پہ لعنت بھیجی
آج اس خطۂ کم ذات پہ لعنت بھیجی
عشق جب جب بھی ندامت کی گلی سے گزرا
گریۂ ہجر کی اوقات پہ لعنت بھیجی
مسلکِ دل میں بھی صدقہ نہیں لیتے سید
قرارِ جان کیا سوزِ جگر کے ہوتے ہوئے
سلگ رہا ہے یہ دل چشمِ تر کے ہوتے ہوئے
شبِ خلش تجھے آخر تمام کیسے کروں
اندھیرا بڑھنے لگا ہے سحر کے ہوتے ہوئے
دعا کرو کہ دعاؤں کی اب ضرورت ہے
دوا کا نام نہ لو چارہ گر کے ہوتے ہوئے
بنا کے دِیں کو فقط یرغمال رکھا ہے
جہاں کو شیخ نے چکر میں ڈال رکھا ہے
کسی کی یاد کی اس رائیگاں مسافت نے
دلِ تباہ کو کر کے نڈھال رکھا ہے
یہ اس خدا کی ہے قدرت، یہ بس خدا کا ہے کام
”اکیلے دونوں جہاں کو سنبھال رکھا ہے“
قطرہ قطرہ یہاں اترتی شام
درد کیوں دل میں جائے بھرتی شام
گر نہ پیتی تمہاری یاد کا زہر
روز جیتی نہ روز مرتی شام
پھر جنازے پہ سرخ سورج کے
بال بکھرائے بین کرتی شام
جنون ہے تو اسے بے قرار رہنے دے
اگر ہے عشق تو بے اختیار رہنے دے
ابھی نگاہ کے آگے غبار رہنے دے
ہوائے دشت مجھے انتظار رہنے دے
جو حشر ٹوٹ چکا اس کا کب تلک ماتم
نہ سن صدائے دلِ تار تار رہنے دے
رقصاں ہیں بگولے جو تہہِ آب، نہ توڑے
دریا کا ارادہ ہے کہ گرداب نہ توڑے
تُو دشتِ ملامت کی مسافت کو چلا ہے
اے کاش محبت تِرے اعصاب نہ توڑے
گرنے ہی سے آتا ہے سنبھلنے کا ہنر بھی
آنکھیں نہیں کھُلتیں جو کوئی خواب نہ توڑے