نت نئے دکھ سے پریشان ہوں میں
تُو کہتا ہے کہ رحمان ہوں میں
خود ہی داروغہ، میں خود ہی قیدی
خود ہی احساس کا زندان ہوں میں
خود ہی ملاح، میں خود ہی کشتی
خود ہی بپھرا ہوا طوفان ہوں میں
نت نئے دکھ سے پریشان ہوں میں
تُو کہتا ہے کہ رحمان ہوں میں
خود ہی داروغہ، میں خود ہی قیدی
خود ہی احساس کا زندان ہوں میں
خود ہی ملاح، میں خود ہی کشتی
خود ہی بپھرا ہوا طوفان ہوں میں
چپ رہیں اہلِ ہنر، ان کے ہنر بولتے ہیں
خود تو تتلی بھی نہیں بولتی، پر بولتے ہیں
گیت گائے کوئی لڑکی تو ہوں طائر حیراں
طائروں کی تو سب اقسام میں نر بولتے ہیں
اک کرن آس کی پھُوٹی تو یوں جذبے چہکے
جیسے پنچھی🕊 دمِ آغازِ سحر بولتے ہیں
حق تلفی
مشتری جب اراضی کا سودا کریں
اس اراضی پہ ہوں کچھ مکاں بھی اگر
ان مکانوں کی قیمت بھی دیں مشتری
جب درختوں کا نیلام ہو دشت میں
دشت کے طائروں کا یہ حق ہے، انہیں
آشیانوں کی قیمت بھی دیں مشتری
الماری کا قبرستان
لکڑی کے تختوں پہ کتابیں
اس تربیت سے چنی ہوئی ہیں
یوں آپس میں جڑی ہوئی ہیں
جیسے قبرستان میں قبریں
جلدوں والی ساری کتابیں پکی قبریں
بارشوں کے موسم میں اک بارشِ بے آب
وہ بے پانی کی بارش تھی
نہ کوئی برگ گُل بھیگا، نہ کوئی پیڑ کا پتہ
نہ اس کی زد میں کوئی گھونسلہ آیا، نہ کوئی شہد کا چھتہ
مرا تن بھیگتا جاتا تھا البتہ
وہ بارش کیسی حیرانی کی بارش تھی
یہ عزت موت نے بخشی
جنازہ اٹھ چکا ہے اب
سڑک پر چلنے والی سینکڑوں کاروں، بسوں، جیپوں، سٹیشن ویگنوں، رکشوں
مقامی منڈیوں کا مال ڈھونے والے گڈوں، ریڑھوں، خچر گاڑیوں، تانگوں
کا اک بے ہنگم اور بھاری ٹریفک رک گیا ہے اک طرف ہو کر
پیادہ بھی کھڑے ہیں احتراماً سر جھکائے صف بہ صف ہو کر
یہ کیسا پھول ہے جس کو ملی عزت تلف ہو کر
ہوا کے جھونکے کی دیر ہے بس
کبھی تو یہ دور ختم ہو گا
کبھی تو آخر یہ ظلم اور جور ختم ہو گا
مگر یہ ظلم اور جور کا دور جانے کس طور ختم ہو گا
قفس کے اک غُرفۂ مقفّل میں تنہا بیٹھا
میں یونہی فکر و خیال کے جال بُن رہا تھا
ڈبل اسٹوری
نئی جوان چڑیوں نے بہار میں اِدھر اُدھر سے خس چنے
اور آ کے میرے گھر کی چھت کی اک کڑی پہ آشیاں بنا لیا
تھی منزل ایک ہی مرے مکان کی، طیورِ پُر شباب نے
بنا کے چھت میں آشیاں اسے دو منزلہ مکاں بنا لیا
اڑا کے جن کو لائی تھی تلاشِ آب و دانہ میرے صحن میں
وہ رفتہ رفتہ ایک دن مرے شریکِ جائیداد ہو گئے
زندگی سے ڈرتے ہو
زندگی کلیسا کی
راہبہ نہیں کوئی
جاء نماز پر بیٹھی
زاہدہ نہیں کوئی
زندگی ہے اک چنچل
بے حجاب رقاصہ