Showing posts with label نجم الاصغر. Show all posts
Showing posts with label نجم الاصغر. Show all posts

Saturday, 31 December 2022

نت نئے دکھ سے پریشان ہوں میں

 نت نئے دکھ سے پریشان ہوں میں

تُو کہتا ہے کہ رحمان ہوں میں

خود ہی داروغہ، میں خود ہی قیدی

خود ہی احساس کا زندان ہوں میں

خود ہی ملاح، میں خود ہی کشتی

خود ہی بپھرا ہوا طوفان ہوں میں

Wednesday, 9 December 2020

چپ رہیں اہل ہنر ان کے ہنر بولتے ہیں

 چپ رہیں اہلِ ہنر، ان کے ہنر بولتے ہیں

خود تو تتلی بھی نہیں بولتی، پر بولتے ہیں

گیت گائے کوئی لڑکی تو ہوں طائر حیراں

طائروں کی تو سب اقسام میں نر بولتے ہیں

اک کرن آس کی پھُوٹی تو یوں جذبے چہکے

جیسے پنچھی🕊 دمِ آغازِ سحر بولتے ہیں

Tuesday, 8 December 2020

مشتری جب اراضی کا سودا کریں

 حق تلفی


مشتری جب اراضی کا سودا کریں

اس اراضی پہ ہوں کچھ مکاں بھی اگر

ان مکانوں کی قیمت بھی دیں مشتری

جب درختوں کا نیلام ہو دشت میں

دشت کے طائروں کا یہ حق ہے، انہیں

آشیانوں کی قیمت بھی دیں مشتری

الماری کا قبرستان

 الماری کا قبرستان


لکڑی کے تختوں پہ کتابیں

اس تربیت سے چنی ہوئی ہیں

یوں آپس میں جڑی ہوئی ہیں

جیسے قبرستان میں قبریں

جلدوں والی ساری کتابیں پکی قبریں

Monday, 7 December 2020

بارشوں کے موسم میں اک بارش بے آب

 بارشوں کے موسم میں اک بارشِ بے آب


وہ بے پانی کی بارش تھی

نہ کوئی برگ گُل بھیگا، نہ کوئی پیڑ کا پتہ

نہ اس کی زد میں کوئی گھونسلہ آیا، نہ کوئی شہد کا چھتہ

مرا تن بھیگتا جاتا تھا البتہ

وہ بارش کیسی حیرانی کی بارش تھی

جنازے یوں بھی اٹھتے ہیں

 یہ عزت موت نے بخشی


جنازہ اٹھ چکا ہے اب

سڑک پر چلنے والی سینکڑوں کاروں، بسوں، جیپوں، سٹیشن ویگنوں، رکشوں

مقامی منڈیوں کا مال ڈھونے والے گڈوں، ریڑھوں، خچر گاڑیوں، تانگوں

کا اک بے ہنگم اور بھاری ٹریفک رک گیا ہے اک طرف ہو کر

پیادہ بھی کھڑے ہیں احتراماً سر جھکائے صف بہ صف ہو کر

یہ کیسا پھول ہے جس کو ملی عزت تلف ہو کر

ہوا کے جھونکے کی دیر ہے بس

 ہوا کے جھونکے کی دیر ہے بس

کبھی تو یہ دور ختم ہو گا

کبھی تو آخر یہ ظلم اور جور ختم ہو گا

مگر یہ ظلم اور جور کا دور جانے کس طور ختم ہو گا

قفس کے اک غُرفۂ مقفّل میں تنہا بیٹھا

میں یونہی فکر و خیال کے جال بُن رہا تھا

Sunday, 6 December 2020

ڈبل اسٹوری ۔۔۔۔۔ شریک جائیداد

 ڈبل اسٹوری


نئی جوان چڑیوں نے بہار میں اِدھر اُدھر سے خس چنے

اور آ کے میرے گھر کی چھت کی اک کڑی پہ آشیاں بنا لیا

تھی منزل ایک ہی مرے مکان کی، طیورِ پُر شباب نے

بنا کے چھت میں آشیاں اسے دو منزلہ مکاں بنا لیا

اڑا کے جن کو لائی تھی تلاشِ آب و دانہ میرے صحن میں

وہ رفتہ رفتہ ایک دن مرے شریکِ جائیداد ہو گئے

زندگی سے ڈرتے ہو

 زندگی سے ڈرتے ہو


زندگی کلیسا کی

راہبہ نہیں کوئی

جاء نماز پر بیٹھی

زاہدہ نہیں کوئی

زندگی ہے اک چنچل

بے حجاب رقاصہ