ہوا کے جھونکے کی دیر ہے بس
کبھی تو یہ دور ختم ہو گا
کبھی تو آخر یہ ظلم اور جور ختم ہو گا
مگر یہ ظلم اور جور کا دور جانے کس طور ختم ہو گا
قفس کے اک غُرفۂ مقفّل میں تنہا بیٹھا
میں یونہی فکر و خیال کے جال بُن رہا تھا
کہ پاس اک کوٹھڑی سے پکار اٹھا کوئی رجائی
میں اس کی آواز سن رہا تھا
صدا کی شاخوں سے ٹوٹتے پھول چن رہا تھا
عجیب پاگل تھا کہہ رہا تھا
نہ غم گزیدہ، ستم رسیدہ ہوں دل شکستہ
نکل ہی آئے گا کوئی رَستہ
فصیلِ زندانِ سنگ بستہ
تو ہو چکی ہے اب اتنی خستہ
ہوا کے جھونکے کی دیر ہے بس
ہوا چلی تو یہ خستہ دیوار ایک ملبے کا ڈھیر ہے بس
ہوا چلی تو بکھر کے رہ جائیں گے ستمگر
ہوا کے جھونکے کی دیر ہے بس
میں اس کی آواز سن کے چونکا
میرے وطن پر تو بے حسی کا ہے حبس طاری
کہاں سے آئے گا کوئی جھونکا
نجم الاصغر
No comments:
Post a Comment