Monday, 7 December 2020

ہوا کے جھونکے کی دیر ہے بس

 ہوا کے جھونکے کی دیر ہے بس

کبھی تو یہ دور ختم ہو گا

کبھی تو آخر یہ ظلم اور جور ختم ہو گا

مگر یہ ظلم اور جور کا دور جانے کس طور ختم ہو گا

قفس کے اک غُرفۂ مقفّل میں تنہا بیٹھا

میں یونہی فکر و خیال کے جال بُن رہا تھا

کہ پاس اک کوٹھڑی سے پکار اٹھا کوئی رجائی

میں اس کی آواز سن رہا تھا

صدا کی شاخوں سے ٹوٹتے پھول چن رہا تھا

عجیب پاگل تھا کہہ رہا تھا

نہ غم گزیدہ، ستم رسیدہ ہوں دل شکستہ

نکل ہی آئے گا کوئی رَستہ

فصیلِ زندانِ سنگ بستہ

تو ہو چکی ہے اب اتنی خستہ

ہوا کے جھونکے کی دیر ہے بس

ہوا چلی تو یہ خستہ دیوار ایک ملبے کا ڈھیر ہے بس

ہوا چلی تو بکھر کے رہ جائیں گے ستمگر

ہوا کے جھونکے کی دیر ہے بس

میں اس کی آواز سن کے چونکا

میرے وطن پر تو بے حسی کا ہے حبس طاری

کہاں سے آئے گا کوئی جھونکا


نجم الاصغر

No comments:

Post a Comment