ہے یہی وقت اِن کا دامن تھام لے
گرنے والے! اب علیؑ کا نام لے
مرحبوں کے سر پہ ہے تیغِ علیؑ
اپنا بدلا صبح لے یا شام لے
ہے مئے حُب علیؑ کچھ تُند و تیز
حُر بنے جو مستیوں سے کام لے
ہے یہی وقت اِن کا دامن تھام لے
گرنے والے! اب علیؑ کا نام لے
مرحبوں کے سر پہ ہے تیغِ علیؑ
اپنا بدلا صبح لے یا شام لے
ہے مئے حُب علیؑ کچھ تُند و تیز
حُر بنے جو مستیوں سے کام لے
مٹا ہے کبرِ عبادت کس اہتمام کے ساتھ
کہ دو سجود ہیں واجب ہر اک قیام کے ساتھ
نہ تھی جو فکر مسلسل سبک مزاجوں کی
ہر ایک سمت میں دوڑے ہوائے بام کے ساتھ
زباں پہ حرفِ دعا ہے تو ساتھ دل بھی جھکے
کِیا درودﷺ کو واجب مگر سلام کے ساتھ
ہوا ہوس کی چلی نفس مشتعل نہ ہُوا
جسے یہ بات میسّر ہوئی، خجل نہ ہوا
گُزر چلا مَن و تو سے فضائے ہُو کا حریف
بشر وہی جو گرفتارِ آب و گِل نہ ہوا
یہ اور بات ہے ظالم کی نیند اُڑ جائے
ارادتاً مِرا نالہ کبھی مُخل نہ ہوا
داستاں صبر کی غیروں کو سُنائی نہ گئی
جُز رسی دردِ خُدا داد میں پائی نہ گئی
فکرِ آزاد کو پروائے نشیمن کب تک
تہمتِ تنگ دلی مجھ سے اُٹھائی نہ گئی
حرکتِ نفس طلب، اور طلب لامحدود
لُطفِ ساقی ہے کہ یہ پیاس بُجھائی نہ گئی
ہوائے دوست میں فکرِ صراط کیا کرتے
زمیں پہ پاؤں نہ تھے احتیاط کیا کرتے
شراب نام ہے خود ساختہ تغافل کا
خرد کو آگ لگی تھی نشاط کیا کرتے
جو ہم نشیں تھے گُل و خار کہہ دیا، ہمسر
فریبِ عہد ہے یہ، بے بساط کیا کرتے
ارمان نکلتے دلِ پُر فن کے برابر
ویرانہ جو ہوتا کوئی گُلشن کے برابر
کیوں اہلِ نظر ایک ہے دونوں کی طبیعت
سُنبل نے جگہ پائی جو سوسن کے برابر
میں دام پہ گِرتا نہیں اے ذوقِ اسیری
ہاں کوئی قفس لائے نشیمن کے برابر
رہے جو شام و سحر اُن کے آستاں کو سلام
یہی ہے خُلد، اب آرامِ قلب و جاں کو سلام
دُعائیں دیتی ہوئی بے کسی آگے بڑھی
کیا جو برق نے جُھک جُھک کے آشیاں کو سلام
پرائے تنکے تھے آندھی کا اک بہانہ تھا
گھر اپنا دیکھ لیا، عُمرِ رائیگاں کو سلام