Showing posts with label رشید ترابی. Show all posts
Showing posts with label رشید ترابی. Show all posts

Sunday, 7 April 2024

ہے یہی وقت ان کا دامن تھام لے

 ہے یہی وقت اِن کا دامن تھام لے

گرنے والے! اب علیؑ کا نام لے

مرحبوں کے سر پہ ہے تیغِ علیؑ

اپنا بدلا صبح لے یا شام لے

ہے مئے حُب علیؑ کچھ تُند و تیز

حُر بنے جو مستیوں سے کام لے

Saturday, 16 March 2024

مٹا ہے کبر عبادت کس اہتمام کے ساتھ

 مٹا ہے کبرِ عبادت کس اہتمام کے ساتھ

کہ دو سجود ہیں واجب ہر اک قیام کے ساتھ

نہ تھی جو فکر مسلسل سبک مزاجوں کی

ہر ایک سمت میں دوڑے ہوائے بام کے ساتھ

زباں پہ حرفِ دعا ہے تو ساتھ دل بھی جھکے

کِیا درودﷺ کو واجب مگر سلام کے ساتھ

Friday, 24 November 2023

ہوا ہوس کی چلی نفس مشتعل نہ ہوا

 ہوا ہوس کی چلی نفس مشتعل نہ ہُوا

جسے یہ بات میسّر ہوئی، خجل نہ ہوا

گُزر چلا مَن و تو سے فضائے ہُو کا حریف

بشر وہی جو گرفتارِ آب و گِل نہ ہوا

یہ اور بات ہے ظالم کی نیند اُڑ جائے

ارادتاً مِرا نالہ کبھی مُخل نہ ہوا

Monday, 20 November 2023

داستاں صبر کی غیروں کو سنائی نہ گئی

 داستاں صبر کی غیروں کو سُنائی نہ گئی

جُز رسی دردِ خُدا داد میں پائی نہ گئی

فکرِ آزاد کو پروائے نشیمن کب تک

تہمتِ تنگ دلی مجھ سے اُٹھائی نہ گئی

حرکتِ نفس طلب، اور طلب لامحدود

لُطفِ ساقی ہے کہ یہ پیاس بُجھائی نہ گئی

Saturday, 18 November 2023

ہوائے دوست میں فکر صراط کیا کرتے

 ہوائے دوست میں فکرِ صراط کیا کرتے

زمیں پہ پاؤں نہ تھے احتیاط کیا کرتے

شراب نام ہے خود ساختہ تغافل کا

خرد کو آگ لگی تھی نشاط کیا کرتے

جو ہم نشیں تھے گُل و خار کہہ دیا، ہمسر

فریبِ عہد ہے یہ، بے بساط کیا کرتے

Thursday, 16 November 2023

ارمان نکلتے دل پر فن کے برابر

 ارمان نکلتے دلِ پُر فن کے برابر

ویرانہ جو ہوتا کوئی گُلشن کے برابر

کیوں اہلِ نظر ایک ہے دونوں کی طبیعت

سُنبل نے جگہ پائی جو سوسن کے برابر

میں دام پہ گِرتا نہیں اے ذوقِ اسیری

ہاں کوئی قفس لائے نشیمن کے برابر

Tuesday, 29 November 2022

رہے جو شام و سحر ان کے آستاں کو سلام

رہے جو شام و سحر اُن کے آستاں کو سلام

یہی ہے خُلد، اب آرامِ قلب و جاں کو سلام

دُعائیں دیتی ہوئی بے کسی آگے بڑھی

کیا جو برق نے جُھک جُھک کے آشیاں کو سلام

پرائے تنکے تھے آندھی کا اک بہانہ تھا

گھر اپنا دیکھ لیا، عُمرِ رائیگاں کو سلام