کیوں لاؤں ترے شہر کے آثار اٹھا کر
دیوار اُٹھاتے نہیں دیوار اٹھا کر
تنکوں کی با نسبت تھے ضروری تو پرندے
کاندھوں پہ لیے پِھرتے ہیں اشجار اٹھا کر
اب بول، بنانی ہے کہاں پر نئی دنیا؟
میں گھر سے نکل آیا ہوں پرکار اٹھا کر
کیوں لاؤں ترے شہر کے آثار اٹھا کر
دیوار اُٹھاتے نہیں دیوار اٹھا کر
تنکوں کی با نسبت تھے ضروری تو پرندے
کاندھوں پہ لیے پِھرتے ہیں اشجار اٹھا کر
اب بول، بنانی ہے کہاں پر نئی دنیا؟
میں گھر سے نکل آیا ہوں پرکار اٹھا کر
عصائے عشق سے یہ معجزہ نہ ہو جائے
کہ تیرے دل میں مِرا راستہ نہ ہو جائے
ہے تازہ تازہ محبت، سو اس کا لُطف اُٹھا
پڑی پڑی کہیں بد ذائقہ نہ ہو جائے
تِرا گریز نہ ہو انتہائی درجے کا
جو زاویہ ہے تِرا، دائرہ نہ ہو جائے
عالمِ ذات میں امکان سے بھاگے ہوئے لوگ
جا گرے قبر میں شمشان سے بھاگے ہوئے لوگ
جو جہالت سے بچے،۔ علم کی خوراک بنے
غرقِ دریا ہوئے طوفان سے بھاگے ہوئے لوگ
دوسرا عشق تھا پہلے کی تلافی، لیکن
سود میں گھر گئے نقصان سے بھاگے ہوئے لوگ
یہ نہ سوچا پُرکھوں نے کہ مقصد تو سیرابی تھا
اب کی بار بھی آیا ہے جو ریلا وہ سیلابی تھا
فصلیں، ڈنگر، گھر کی چھت تک بہہ جانے کی خبر ملی ہے
گاؤں سے اک خط آیا تو سارا منظر آبی تھا
سرسوں چُننے والی کو دوا ملی، نہ غذا ملی
پِیلیا اس کو نِگل گیا ہے جس کا رنگ گلابی تھا