Showing posts with label رباب حیدری. Show all posts
Showing posts with label رباب حیدری. Show all posts

Thursday, 25 April 2024

کیوں لاؤں ترے شہر کے آثار اٹھا کر

 کیوں لاؤں ترے شہر کے آثار اٹھا کر

دیوار اُٹھاتے نہیں دیوار اٹھا کر

تنکوں کی با نسبت تھے ضروری تو پرندے

کاندھوں پہ لیے پِھرتے ہیں اشجار اٹھا کر

اب بول، بنانی ہے کہاں پر نئی دنیا؟

میں گھر سے نکل آیا ہوں پرکار اٹھا کر

Sunday, 3 December 2023

عصائے عشق سے یہ معجزہ نہ ہو جائے

 عصائے عشق سے یہ معجزہ نہ ہو جائے

کہ تیرے دل میں مِرا راستہ نہ ہو جائے

ہے تازہ تازہ محبت، سو اس کا لُطف اُٹھا

پڑی پڑی کہیں بد ذائقہ نہ ہو جائے

تِرا گریز نہ ہو انتہائی درجے کا

جو زاویہ ہے تِرا، دائرہ نہ ہو جائے

Wednesday, 23 March 2022

عالم ذات میں امکان سے بھاگے ہوئے لوگ

 عالمِ ذات میں امکان سے بھاگے ہوئے لوگ

جا گرے قبر میں شمشان سے بھاگے ہوئے لوگ

جو جہالت سے بچے،۔ علم کی خوراک  بنے

غرقِ دریا ہوئے طوفان سے بھاگے ہوئے لوگ

دوسرا عشق تھا پہلے کی تلافی، لیکن

سود میں گھر گئے نقصان سے بھاگے ہوئے لوگ

Saturday, 26 June 2021

یہ نہ سوچا پرکھوں نے کہ مقصد تو سیرابی تھا

 یہ نہ سوچا پُرکھوں نے کہ مقصد تو سیرابی تھا

اب کی بار بھی آیا ہے جو ریلا وہ سیلابی تھا

فصلیں، ڈنگر، گھر کی چھت تک بہہ جانے کی خبر ملی ہے

گاؤں سے اک خط آیا تو سارا منظر آبی تھا

سرسوں چُننے والی کو دوا ملی، نہ غذا ملی

پِیلیا اس کو نِگل گیا ہے جس کا رنگ گلابی تھا