Showing posts with label صائمہ شہاب. Show all posts
Showing posts with label صائمہ شہاب. Show all posts

Friday, 16 July 2021

کوئی بہلائے باتوں سے مگر یہ ڈرتا رہتا ہے

 کوئی بہلائے باتوں سے مگر یہ ڈرتا رہتا ہے

دلِ برباد کی ہائے پریشانی نہیں جاتی

کسی بھی آشنا دستک پہ اب کھلتا نہیں ہے یہ

تِرے جانے پہ دروازے کی حیرانی نہیں جاتی

قفس میں قید ہوتے ہیں کئی ارماں اڑانوں کے

رہا کر کے پرندے بھی پشیمانی نہیں جاتی

Sunday, 6 June 2021

کتنا مشکل ہے کسی دل میں اتر جانے کا فن

 کتنا مشکل ہے کسی دل میں اتر جانے کا فن

کب ہمیں آیا نگاہوں میں ٹھہر جانے کا فن

ہم تو دشمن کو بھی مِیت اپنا بنا لیتے ہیں

کیا ہمیں آئے گا یاروں سے ٹکر جانے کا فن

ہم اسیرانِ محبت کو قفس ہی ہے راس

یاد رہتا ہے ہمیں پر اپنے کتر جانے کا فن

Monday, 26 April 2021

تجھے اے زندگی ہم پھر سے جی پائیں نہیں ممکن

 تجھے اے زندگی ہم پھر سے جی پائیں نہیں ممکن

مگر تھک کر کہیں رستے میں گر جائیں نہیں ممکن

ہمیں رُسوائیوں کا خوف تو محسوس ہوتا ہے

مگر ہم عشق سے تیرے مُکر جائیں نہیں ممکن

اندھیرا وحشتوں کا کب نگل جائے پتہ کیا ہے

پرائے جگنوؤں کا چاند گھر لائیں نہیں ممکن

Monday, 19 April 2021

آپ خود سے بچھڑ گئی ہوں میں

 خود کلامی


آپ خود سے بچھڑ گئی ہوں میں

ایسا لگتا ہے کھو گئی ہوں میں

بھیڑ ہے اس قدر مگر جانے

کیوں اکیلی سی ہو گئی ہوں میں

منزلیں تھیں مری کسی جانب

آ کے کس اور رک گئی ہوں میں

Friday, 16 April 2021

دل پہ ہر دم سحر رہتا ہے تمہاری بات کا

دل پہ ہر دم سحر رہتا ہے تمہاری بات کا

ملکیت میری مگر قبضہ تمہاری ذات کا

دن گزر جاتا ہے جیسے بھی تمہارے بن مگر

حال کیا تم کو سناؤں ہجر والی رات کا

عشق کے اس کھیل میں کھو کر تمہیں پانے کا فن

جیت والے کیا سمجھ پائیں نشہ اس مات کا

بھاگتے بھاگتے تیرے پیچھے پاؤں ہو جاتے شل تو بہتر تھا

 تمہاری قبر  


بھاگتے بھاگتے تیرے پیچھے

پاؤں ہو جاتے شل تو بہتر تھا 

پر

میرے خواب تھک گئے اب کے

حوصلے سب بکھر گئے کب کے

Thursday, 15 April 2021

کوئی ایسا حرف دعا ملے جو ادا کروں تو قبول ہو

 کوئی ایسا حرفِ دعا ملے

جو ادا کروں تو قبول ہو

تیری قربتیں ہوں نصیب تو

تیرے وصل کی تیری چاہ کی

سبھی راحتیں بھی قریب ہوں

میرا بخت ہو تیرا نام ہو