کوئی بہلائے باتوں سے مگر یہ ڈرتا رہتا ہے
دلِ برباد کی ہائے پریشانی نہیں جاتی
کسی بھی آشنا دستک پہ اب کھلتا نہیں ہے یہ
تِرے جانے پہ دروازے کی حیرانی نہیں جاتی
قفس میں قید ہوتے ہیں کئی ارماں اڑانوں کے
رہا کر کے پرندے بھی پشیمانی نہیں جاتی
کوئی بہلائے باتوں سے مگر یہ ڈرتا رہتا ہے
دلِ برباد کی ہائے پریشانی نہیں جاتی
کسی بھی آشنا دستک پہ اب کھلتا نہیں ہے یہ
تِرے جانے پہ دروازے کی حیرانی نہیں جاتی
قفس میں قید ہوتے ہیں کئی ارماں اڑانوں کے
رہا کر کے پرندے بھی پشیمانی نہیں جاتی
کتنا مشکل ہے کسی دل میں اتر جانے کا فن
کب ہمیں آیا نگاہوں میں ٹھہر جانے کا فن
ہم تو دشمن کو بھی مِیت اپنا بنا لیتے ہیں
کیا ہمیں آئے گا یاروں سے ٹکر جانے کا فن
ہم اسیرانِ محبت کو قفس ہی ہے راس
یاد رہتا ہے ہمیں پر اپنے کتر جانے کا فن
تجھے اے زندگی ہم پھر سے جی پائیں نہیں ممکن
مگر تھک کر کہیں رستے میں گر جائیں نہیں ممکن
ہمیں رُسوائیوں کا خوف تو محسوس ہوتا ہے
مگر ہم عشق سے تیرے مُکر جائیں نہیں ممکن
اندھیرا وحشتوں کا کب نگل جائے پتہ کیا ہے
پرائے جگنوؤں کا چاند گھر لائیں نہیں ممکن
خود کلامی
آپ خود سے بچھڑ گئی ہوں میں
ایسا لگتا ہے کھو گئی ہوں میں
بھیڑ ہے اس قدر مگر جانے
کیوں اکیلی سی ہو گئی ہوں میں
منزلیں تھیں مری کسی جانب
آ کے کس اور رک گئی ہوں میں
دل پہ ہر دم سحر رہتا ہے تمہاری بات کا
ملکیت میری مگر قبضہ تمہاری ذات کا
دن گزر جاتا ہے جیسے بھی تمہارے بن مگر
حال کیا تم کو سناؤں ہجر والی رات کا
عشق کے اس کھیل میں کھو کر تمہیں پانے کا فن
جیت والے کیا سمجھ پائیں نشہ اس مات کا
تمہاری قبر
بھاگتے بھاگتے تیرے پیچھے
پاؤں ہو جاتے شل تو بہتر تھا
پر
میرے خواب تھک گئے اب کے
حوصلے سب بکھر گئے کب کے
کوئی ایسا حرفِ دعا ملے
جو ادا کروں تو قبول ہو
تیری قربتیں ہوں نصیب تو
تیرے وصل کی تیری چاہ کی
سبھی راحتیں بھی قریب ہوں
میرا بخت ہو تیرا نام ہو