وہ تم سے بات نہ کرنا تو اک بہانہ تھا
کہ اس طرح تمہیں اپنے قریب لانا تھا
زمانے بھر نے مجھے آزما کے دیکھ لیا
تم آزماتے اگر اور آزمانا تھا
تمہاری نظروں سے بچ کر کوئی کہاں جاتا
کہ تیرے تکنے کا انداز عاشقانہ تھا
وہ جس کے غیظ و غضب کے جہاں میں چرچے تھے
اسی کے در پہ مجھے اپنا سر جُھکانا تھا
میں کتنی دیر اسے اس طرح رکھتا
وہ راز تھا اسے میرے لب پہ آنا تھا
کاظم حسین کاظمی
No comments:
Post a Comment