Wednesday, 5 August 2026

وہ تم سے بات نہ کرنا تو اک بہانہ تھا

 وہ تم سے بات نہ کرنا تو اک بہانہ تھا

کہ اس طرح تمہیں اپنے قریب لانا تھا

زمانے بھر نے مجھے آزما کے دیکھ لیا

تم آزماتے اگر اور آزمانا تھا

تمہاری نظروں سے بچ کر کوئی کہاں جاتا

کہ تیرے تکنے کا انداز عاشقانہ تھا

وہ جس کے غیظ و غضب کے جہاں میں چرچے تھے

اسی کے در پہ مجھے اپنا سر جُھکانا تھا

میں کتنی دیر اسے اس طرح رکھتا

وہ راز تھا اسے میرے لب پہ آنا تھا


کاظم حسین کاظمی

No comments:

Post a Comment