Sunday, 9 August 2026

کھل گئی کھڑکی اچانک پھر بھی مجھ کو ڈر نہ تھا

 کھل گئی کھڑکی اچانک پھر بھی مجھ کو ڈر نہ تھا

اب مری آنکھوں میں کوئی رات کا منظر نہ تھا

بہہ رہا تھا چار سو اک ریت کا دریا مگر

جس جگہ پر میں کھڑا تھا راستہ بنجر نہ تھا

شہر کے سارے مکاں لگنے لگے ہیں ایک سے

جس مکاں میں بھی گیا دیکھا میرا وہ گھر نہ تھا

یاد جب کرنے لگا تب رنگ موسم بھی کھلا

لوگ کہتے تھے کہ طغیانی بھرا ساگر نہ تھا

راستے پریمی سبھی کیوں کھو گئے، گم ہو گئے

اس سے پہلے اتنی گہری دُھند کا منظر نہ تھا


پریمی رومانی

No comments:

Post a Comment