Sunday, 30 August 2026

وقت کی قید نہیں زلف کے سلجھانے میں

 وقت کی قید نہیں زُلف کے سُلجھانے میں 

رنگ بھرتی ہے چلی جاتی ہوں افسانے میں 

میں وہ مے کش ہوں سرشام ہی میخانے میں 

غموں کو گھول کے پی جاتی ہوں پیمانے میں 

آزمانا ہے تو  پھر شمع کو جلا کے دیکھو

موت کا خوف نہیں ہوتا ہے پروانے میں 

میں چلی سوئے حرم جان کا نذرانہ لیے 

جس کو مرنا ہے وہ مر جائے صنم خانے میں 

اس کے انداز تکلم کو برا کیوں مانیں 

عقل ہوتی ہی کہاں ہے کسی دیوانے میں 

تُو نے مٹی کا کھلونہ تو  دیا ہے لیکن 

وقت تو لگتا ہے بچے کے بہل جانے میں 

آؤ  جی بھر کے اسے آنکھوں میں بسا لیں ناچیز 

دیر لگتی ہی نہیں خوابوں کے ٹُوٹ جانے میں 


حرا حمید

No comments:

Post a Comment