مسلکوں کے نصاب پڑھ ڈالے
نفرتوں کے جواب پڑھ ڈالے
اُن کے چہروں پہ جو تعصب تھا
اُس کے سب پیچ و تاب پڑھ ڈالے
آج کچلے تھے اس نے مقتل میں
جس قدر بھی گلاب پڑھ ڈالے
تیری گلیوں پہ جو نثار ہوئے
سارے خانہ خراب پڑھ ڈالے
تم نے لکھیں جفائیں اور ہم نے
چاہتوں کے خطاب پڑھ ڈالے
فیصل جمیل کاشمیری
No comments:
Post a Comment